Cleanliness is a part of religion.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۳
پریچرس، مہاپریچرس اور صوفی سنتوں (ہندو اور مسلم) کے قول ہی دئے ہیں۔ یہ دونوں دھرم انسانیت کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ سکھ گروؤں کے شاگردوں میں ہندو اور مسلم دونوں تھے۔ سکھوں کے سب سے پوتر دھارمک استھان امرتسر کے ہر مندر صاحب کا سنگ بنیاد ایک مسلم پیر (پیر میاں میر) نے رکھا تھا۔
ایک صاحب جاپان سے آئے تھے۔ ان کا نام آنند کے نہاری تھا۔ ان سے میں نے کہا کہ جاپانی لوگ پیدائشی طور پر اسپر پھول ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نسل ایسی نہیں ہے۔ اب امریکن کلچر تیزی سے نئی نسل میں پھیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان اپنی ترقی کی پیک (peak) پر پہنچنے کے بعد اب نیچے جارہا ہے، روحانی اور اقتصادی ہر اعتبار سے۔ لوگ مقصدیت کا احساس کھوتے جارہے ہیں۔ جاپان کی نئی نسل اپنی آئیڈینٹی کھو چکی ہے۔
کیرلا میں مائسچر کا سبب یہ ہے کہ یہاں کی زمین کا ایک تہائی حصہ گھنے جنگلوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ ہر طرف سبزہ کی کثرت ہے، اس نے یہاں کی فضا کو مرطوب بنادیا ہے۔
کیرلا کے لوگ (اور اسی طرح پورے جنوبی ہند کے لوگ) بے حد صفائی پسند ہیں۔ صفائی ان کے کلچر میں شامل ہے۔ یہاں کے گھر اور راستے بے حد صاف ہوتے ہیں۔ آپ اگر اچانک کسی گھر یا کسی بستی میں جائیں تو آپ اس کو ہمیشہ صاف ستھرا پائیں گے۔ وہ گھروں کے اندر جوتا پہننا پسند نہیں کرتے۔ چنانچہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے جوتا اتار دیا جاتا ہے۔ میں نے یہاں کی ایک مجلس میں اس کا ذکر کرتے ہوئے پیغمبر اسلام کی یہ حدیث سنائی: الطہور شطر الایمان ۔ اس کا ترجمہ میں نے اس طرح کیا:
Cleanliness is a part of religion.
لوگ اس حدیث کو سن کر بہت خوش ہوئے۔ ان کے چہرے سے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ خوش ہو رہے ہوں کہ خدا بھی ان کی تائید کر رہا ہے۔
یہاں صرف ایک چیز میرے ذوق کے خلاف تھی ۔ وہ فضا میں مسلسل طور پر نمی (moisture)
‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues