Cleanliness is a part of religion.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۳
ہے ۔ گھروں میں عام طور پر کارپٹ نہیں ہوتے ۔ چکنا فرش ہوتا ہے ۔ کیرلا کے لوگوں میں کچھ چیزیں پیدائشی طور پر ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ لوگ ابھی تک اپنے نیچر پر ہیں ۔ ایک بار میں نے دو آدمیوں کو تیز تیز بحث کرتے ہوئے دیکھا ۔ میرے ساتھی اس کو دیکھ کر ہنس رہے تھے ۔ میں نے سبب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ تھوڑا انتظار کیجئے ۔ چنانچہ کچھ دیر کے بعد اپنے آپ ان کی بحث ختم ہوگئی ۔ تیز بحث کے باوجود کسی نے دوسرے کے خلاف ہاتھ نہیں اٹھایا ۔ کچھ دیر کے بعد دونوں آدمی نارمل ہوگئے اور دونوں اپنے اپنے راستہ پر آگے بڑھ گئے ۔ دہلی میں ایسا ہو تو دونوں آدمی ایک دوسرے کے خلاف غراتے ہوئے جائیں گے ۔ مگر یہاں دونوں اس طرح نارمل انداز سے چلے گئے جیسے کہ ان کے درمیان کچھ نہیں ہوا تھا ۔
یہاں کے ٹیکسی ڈرائیور اور اسکوٹر ڈرائیور مشین کی طرح کام کرتے ہیں ۔ وہ مسافر کو نہ ستاتے ہیں اور نہ زیادہ کرایہ لیتے ہیں ۔ ایک بار کچھ لوگوں نے ایک اسکوٹر ڈرائیور کو پکڑا ۔ وہ مسافر کو پریشان کر رہا تھا اور اس سے زیادہ رقم لینا چاہتا تھا ۔ وہ اس کو کیرلا میں لے آیا ۔ اس نے اسے ایک اسکوٹر پر بٹھایا اور کہا کہ اس کو لے کر فلاں جگہ چھوڑ دینا ۔ وہ اسکوٹر والا اس کو لے گیا ۔ ٹھیک مقام پر پہنچا کر ٹھیک مقرر نرخ کے مطابق ، اس سے کرایہ لے کر اس کو اتار دیا ۔ اس کے بعد مذکورہ اسکوٹر ڈرائیور کو یہ فرق دیکھ کر سخت شرمندگی ہوئی ۔ وہ بالکل بدل گیا ۔
کیرلا کے مردوں اور عورتوں کو دیکھئے توایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ براہ راست فطرت کے کارخانے سے نکل کر چلے آ رہے ہیں ۔ معصومیت ، دیانت داری ، اطاعت شعاری ، نرم گفتاری ، تواضع ، فرض شناسی ، اپنے کام سے کام رکھنا ، بحث وتکرار کے بغیر بات کو مان لینا ۔ اس قسم کی صفات گویا ان کی شخصیت کا جزء ہیں ۔ وہ پوری طرح خدا کی فطرت پر قائم ہیں ۔ مجھے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ آخرت میں خدا کی رحمت کو پانے کے لیے غالباً دو معیار ہوں گے ۔ ایک اخلاقی اور دوسرے شرعی ۔ اخلاقی معیار پیدائشی فطرت کے تابع ہے اور شرعی معیار وحی الہی کے تابع ۔ جو لوگ خدا کی دی ہوئی فطرت پر قائم ہوں ، جو معلوم احکام الہی سے انحراف نہ کریں وہ خدا کے غیر باغی بندے ہیں ۔ اور جو لوگ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues