Cleanliness is a part of religion.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۳
وحی الہی کے ذریعہ ملی ہوئی ہدایت پر اخلاص کے ساتھ قائم ہوں وہ خدا کے مخصوص بندے ہیں۔ درجہ بدرجہ غالباً دونوں ہی خدا کی رحمت کے مستحق قرار پائیں گے۔
تاہم شمالی ہند کے لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں ان لوگوں کے مزاج کو ایک لفظ میں بیان کرنا ہو تو غالباً وہ سرکشی ہوگا۔ ان کے اندر سرکشی اور انانیت (arrogance) اتنا زیادہ ہے کہ ان کو دیکھ کر مجھے خیال آتا ہے کہ اس قسم کے لوگ تو شاید اخلاقی معیار ہی پر قابلِ ردقرار پا جائیں اور شرعی معیار کو ان کے اوپر استعمال کرنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ دونوں گروہوں کے فرق کو اس دنیا میں دیکھا جا سکتا ہے۔ پہلی قسم کے لوگوں کو دیکھئے توان کے چہرے پر ایک معصومانہ حسن ہوگا اور دوسری قسم کے لوگوں کو دیکھئے تو ان کے چہرے پر ایک مغرورانہ بدصورتی دکھائی دے گی۔
مجھے ذاتی طور پر ایسے لوگوں سے سخت وحشت ہوتی ہے جن کے کلام میں مغرورانہ انداز پایا جاتا ہو۔ اس کے برعکس جن لوگوں کے کلام میں تواضع اور سادگی کا انداز ہو ان سے بات کرنا میرے لئے ہمیشہ خوشی کا باعث ہوتا ہے، خواہ وہ غریب اور جاہل ہی کیوں نہ ہوں۔ شمالی ہند کی سڑکوں پر چلتے ہوئے اکثر میں نے کار اور ٹرک کو سڑک کے کنارے الٹا پڑا ہوا دیکھا ہے۔ روڈ ایکسیڈنٹ وہاں روزانہ کی ایک بات ہے۔ مگر کیرلا کی سڑکوں پر شاید ہی ایسا منظر کبھی دکھائی دیتا ہو۔ یہاں کے لوگوں میں ڈسپلن ہے۔ وہ قانون شکنی سے بچتے ہیں۔ وہ دوسروں کی رعایت کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کو راستہ دینے کے لیے خود پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الیکشن کے زمانہ میں یہاں وہ توڑ پھوڑ اور ہنگامے نہیں ہوتے جو شمالی ہند میں الیکشن کے زمانے میں دیکھے جاتے ہیں۔ الیکشن کے موقع پر ہندو، مسلم، عیسائی اکثر متفقہ طور پر کسی نمائندے کے حق میں ووٹ دیتے ہیں۔ حال میں الامۃ اور آئی ایس ایس کے کچھ شورش پسند نوجوانوں نے یہاں کے امن کو توڑنے کی کوشش کی مگر سماج کا تعاون نہ ملنے کی وجہ سے وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ کیرلا کی ریاست خلیل جبران کے اس مقولہ کی ایک عملی مثال ہے کہ درخت کی اجازت کے بغیر اس کا ایک پتہ بھی زمین پر نہیں گرتا:
Not a single leave falls down without the silent consent of the tree.
‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues