Al-Risala · February 2003 · page

Cleanliness is a part of religion.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۳

کیرلا کے امن پسند سماج نے شورش پسند نو جوانوں کی حمایت نہ کی اس لئے وہ غبارہ کی طرح پھٹ کر رہ گئے ۔ دوسرے مقام پر جہاں شورش پسند نوجوان تباہی پھیلانے میں کامیاب ہوئے اس کا سبب یہی تھا کہ وہاں کے سماج سے ان کو حمایت ملی۔

اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ کچھ لوگوں کے غلط فعل پر سب لوگوں پر عذاب آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کچھ لوگ اگر اپنے غلط فعل کے براہ راست ذمہ دار ہوتے ہیں تو بقیہ لوگ اس کے بالواسطہ ذمہ دار۔ شورش زدہ مقام پر جب وہاں کا حاکم طبقہ جوابی کارروائی کرتا ہے تو وہاں کے لکھنے اور بولنے والے اجتماع کرتے ہیں کہ حکمران طبقہ بے گناہ لوگوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنا رہا ہے۔ مگر یہ قانون فطرت کے مطابق ہے۔ یہ دراصل اس بات کی سزا ہے کہ وہاں کے عوام نے بالواسطہ انداز میں ان شورش پسندوں کا ساتھ دیا۔

یہاں ایک سردار جی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اس قسم کے بعض مقامات کا نام لے کر کہا کہ دیکھئے، مغرب میں قائم شدہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ان کی مذمت کی ہے۔ میں نے کہا کہ جو لوگ مغرب کی ان رپورٹوں کو لے کر تقریریں کرتے ہیں وہ باتوں کو گہرائی کے ساتھ نہیں سمجھتے۔ مغرب میں قائم شدہ انسانی حقوق کے ادارے دراصل مغربی تہذیب کی برتری ثابت کرنے کے ادارے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم حقیقت پسندی سے کام لیں اور ایسے واقعات کو مغرب کی عینک سے دیکھنے کے بجائے قانون فطرت کی روشنی میں دیکھیں۔

ایک ہندو فیملی جوار نا کولم سے یہاں آئی تھی۔ ۲ مارچ کی صبح کو واپس جاتے ہوئے وہ لوگ مجھ سے آخری ملاقات کے لیے میری قیام گاہ پر آئے۔ وہ بذریعہ کار واپس جارہے تھے۔ آخری ملاقات میں میں نے کچھ نصیحت آمیز باتیں کہیں ۔ ان میں سے ایک یہ تھی کہ خدا کی مہربانی کے ساتھ واپس جایئے (With the grace of God) ۔ انہوں نے اس کو دہراتے ہوئے کہا: خدا کی مہربانی سے، گرو کی مہربانی سے۔

یہ ہندو عقیدہ کا خاص جزء ہے۔ وہ اپنے عقیدہ کے خدا اور گرو میں فرق نہیں کرتے۔ وہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues

Printed page