Cleanliness is a part of religion.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۳
گرو کو اس طرح مانتے ہیں جیسے کہ وہی ان کا خدا ہو۔ بدقسمتی سے برصغیر ہند کے مسلمانوں میں یہی عقیدہ بدلے ہوئے الفاظ کے ساتھ آگیا ہے۔ یہ لوگ بھی اپنے مفروضہ اکابر یا بزرگوں کو بڑائی کا عملاً وہی درجہ دے ہوئے ہیں جو خدا کا درجہ ہے: یحبونهم كحب الله ۔ ان مسلمانوں میں یہ غیر موحدانہ جذبہ اتنی گہرائی کے ساتھ سرایت کئے ہوئے ہے کہ اس کی اصلاح کرنا تو درکنار اس کے خلاف بولنے کی ہمت بھی کوئی مصلح نہیں کرپاتا۔ صرف سلفی لوگ اس کے خلاف کچھ بولتے ہیں۔ مگر سلفی لوگوں میں سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ ان میں داعیانہ شفقت نہیں، ان کے مزاج میں مناظرانہ کڑپن ہوتا ہے۔
اس غیر موحدانہ مزاج کی اصلاح میں وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ غیر سلفی علماء عام طور پر اس عوامی مزاج سے مصالحت کئے ہوئے ہیں، شاید اس لئے کہ اگر وہ اس کے خلاف بولیں تو عوامی نمائندگی کا اسٹیج ان سے چھن جائے گا۔ اس خاموشی کے پیچھے شاید یہ خوف چھپا ہوا ہے کہ یہ لوگ اگر اس غیر موحدانہ روش کے خلاف بولیں تو وہ عوام سے کٹ جائیں گے اور ان کو وہ فائدے نہ مل سکیں گے جو عوام کا نمائندہ (بالفاظ دیگر بھیڑ کا نمائندہ) سمجھے جانے کی بنا پر انہیں حاصل ہو رہے ہیں۔ اس کا تجربہ مجھے ذاتی طور پر ہوا۔ میرے کئی ہمدرد اکثر مجھ سے یہ کہتے رہے ہیں کہ فلاں بات نہ کہئیے، ورنہ آپ عوام سے کٹ جائیں گے۔
اس معاملہ میں جماعت اسلامی کے لوگوں نے زبردست ہوشیاری کا ثبوت دیا ہے۔ کوئی ڈبل اسٹینڈرڈ ہوتا ہے، یہ لوگ ملٹی اسٹینڈرڈ ہیں۔ اپنے لٹریچر کے اعتبار سے وہ ایک اصولی جماعت ہے۔ مگر وہ مسلمانوں کے ہر اس اسٹیج پر جا کر بیٹھ جاتے ہیں جو نام نہاد ملی ایشوز پر سجایا گیا ہو۔ ان کا نام نہاد پریس اس قسم کی ہر ملی سرگرمی کو اپنے کالم میں جگہ دیتا ہے۔ اس طرح وہ عوام سے نہ کٹنے کا زبردست اہتمام کر رہے ہیں۔ مگر شاید انہیں یہ معلوم نہیں کہ دو کشتی کی اس سواری میں دونوں ہی حیثیت کو کھو دینا ہے۔ ملٹی اسٹینڈرڈ کی یہ پالیسی چونکہ محض ظاہری تھی اس لیے وہ مسلم عوام میں مقبولیت نہ پاسکے اور اپنی اصول پسندی کو تو وہ پہلے ہی کھو چکے تھے۔ اس طرح ان کی پوزیشن ’’نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم‘‘ والی ہو کر رہ گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues