Al-Risala · February 2003 · page

Cleanliness is a part of religion.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۳

وصال صنم‘‘ جیسی ہوگئی۔ موجودہ جماعت اسلامی صرف اپنی اسٹیبلشمنٹ کی بنیاد پر قائم ہے، نہ کہ حقیقتاً اپنے اصولی موقف کی بنا پر۔

شانتی گری آشرم کا رقبہ ایک سوا ایکڑ سے زیادہ ہے۔ یہاں تقریباً ایک ہزار آدمی رہتے ہیں۔ یہ لوگ یہاں کے مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ اسپتال، اسکول گارڈن، ایگری کلچرل فارم، دواسازی، وغیرہ۔ ان لوگوں کی کوئی تنخواہ مقرر نہیں۔ مگر ہر ایک نہایت خوش دکھائی دیتا ہے۔ میں نے کچھ لوگوں سے پوچھا کہ آپ کا ماہانہ خرچ کس طرح چلتا ہے۔ سب کا ایک ہی جواب تھا۔ گرو جی کے آشیرواد سے، سب اچھی طرح ہو جاتا ہے۔

۲ مارچ کو آشرم کا اسپتال دیکھا۔ یہاں آیورویدک اصول پر علاج ہوتا ہے۔ ایک آدمی ۴۷ سال کی عمر کا تھا۔ وہ سنگاپور کا شہری ہے۔ اس کا نام سیتارام ہے۔ اس پر فالج کا حملہ ہو گیا، وہ چل نہیں سکتا تھا۔ یہاں کے دو ماہ کے علاج کے بعد اب وہ چل پھر سکتا ہے۔ اس کو امید ہے کہ وہ جلد ہی سنگاپور واپس جا کر نارمل زندگی گزارے گا۔ سنگاپور اسپتال میں تقریباً ایک ماہ علاج کے لئے ۱۰ ہزار ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔ یہاں بہت سستے علاج میں اس کو فائدہ ہو گیا۔

۲ مارچ کو میں آشرم میں شام کو ٹہل رہا تھا۔ ایک صاحب آئے اور السلام علیکم کہا۔ انہوں نے اپنا نام ایم سلیمان بتایا۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ مجھ کو جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا۔ یہاں بہت سے لوگ آپ کو جانتے ہیں۔ اس زمانہ میں کمیونی کیشن کی ترقی نے کتنا فرق پیدا کر دیا ہے۔ یکم مارچ کو ہولی کا دن تھا۔ اخبار سے معلوم ہوا کہ فاروق عبداللہ نے ہولی کھیلی۔ مگر آشرم کے پورے علاقے میں زندگی بالکل نارمل تھی۔ یہاں ہولی کا کوئی نشان نہ تھا۔ شانتی گری آشرم کے گرو جی ہندودھرم پر کھلی تنقید کرتے ہیں۔ وہ ہندو شخصیتوں، کرشن اور رام وغیرہ کا نام لے کر ان پر تنقید کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ہزاروں ہندو ان کے زبردست معتقد ہیں۔ ہندو ازم عجیب و غریب مذہب ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues

Printed page