Cleanliness is a part of religion.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۳
گرو جی کے فلسفہ کا خلاصہ یہ ہے : فلکیاتی نظام اور انسان کے تعامل (interaction) سے شخصیتیں بنتی ہیں۔ رام کرشن اور منو وغیرہ چھٹے آسمان تک پہنچے۔ محمد نبی ساتویں آسمان تک پہنچے۔ مگر اس کے صرف تین ماہ بعد وہ مرگئے ۔ اس لئے وہ آگے نہ جاسکے، وغیرہ۔ میں نے پوچھا کہ ان باتوں کا ماخذ کیا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ ان باتوں کا ماخذ کوئی کتاب نہیں ہے بلکہ روحانی فقیر ان کو انسپریشن (inspiration) کے ذریعہ معلوم کرتے ہیں۔ ’’محمد نبی آگے نہ بڑھ سکے‘‘ یہ سب speculation ہے۔ اس کی تاریخی یا سائنٹفک بنیاد نہیں ہے۔
صوفیوں نے بھی اسی طرح قیاس کے ذریعہ بے بنیاد باتیں کہی ہیں۔ گرو جی کا کہنا ہے کہ آٹھویں آسمان کے اوپر اور بہت سے آسمان ہیں۔ میں نے سوال کیا کہ گرو جی اپنے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ ان کے ایک شاگرد (disciple) نے جواب دیا کہ گرو جی کو خدا نے بہت کچھ دکھایا ہے۔ انہوں نے اس کو لوگوں کو بتایا۔ گرو جی کا کہنا ہے کہ انسانی دنیا اور فلکیاتی دنیا ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ دونوں ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
آشرم سے واپسی میں ہم لوگ ڈاکٹر گوپی ناتھ کے مکان میں تھوڑی دیر کے لئے ٹھہرے ۔ اس وقت میری آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے۔ کئی لوگ وہاں موجود تھے۔ لوگ چاہتے تھے کہ میں کچھ کہوں۔ مگر میں جذبات سے اتنا زیادہ مغلوب تھا کہ میں کچھ نہ بول سکا۔ میں سوچ رہا تھا کہ موجودہ زمانہ اتنا زیادہ مختلف زمانہ ہے کہ آج شاید ایک شخص صرف ’مہدی‘ بن سکتا ہے وہ ’ہادی‘ نہیں بن سکتا۔ میرے دل میں انسانیت کی تڑپ طوفان بن کر ہلچل برپا کئے ہوئے تھی۔ مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ آج کے انسان کو کس طرح خدا سے ملایا جائے۔ آج کے انسان کو کس طرح خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔ موجودہ زمانہ میں غیر مسلم تو کیا، مسلمان بھی سچائی سے آخری حد تک دور ہیں۔ ہر آدمی مادیات میں گم ہے۔ ربانیات کی نہ کسی کو معرفت ہے اور نہ کسی کو سننے کی فرصت۔
ڈاکٹر گوپی ناتھ نے اپنے گھر میں ایک میز پر طرح طرح کے کھانے کی چیزیں اور مشروب رکھے مگر میں نہ کھاسکا اور نہ کچھ پی سکا۔ میری آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2003 All issues