نفس امارہ، نفس لوامہ
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۲۴
گا۔ اس کے بعد آپ اور فریق ثانی کے درمیان ایسی معتدل فضا قائم ہو جائے گی جس میں آپ کو کوئی نیا مسئلہ پیدا کیے بغیر اپنے آپ کو حل کر سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں دشمن اور دوست دونوں خود آپ کی پیدا وار ہیں۔ آپ کا خود اپنا رویہ کسی کو اپنا دشمن بنا دیتا ہے۔ اسی طرح خود آپ کا دوسرا رویہ اس کو آپ کا دوست بنا دیتا ہے۔ اب یہ آپ کے اپنے اختیار میں ہے کہ آپ فریق ثانی کو اپنا دشمن بناتے ہیں یا اپنا دوست۔ انتظار کی پالیسی قرآن کی سورہ نمبر ۱۲ میں ایک پیغمبر کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اُن کے اوپر بہت سے سخت حالات پیش آئے۔ مگر وہ تقویٰ اور صبر پر قائم رہے۔ یہاں تک کہ خدا نے اُن کو سرفرازی عطا فرمائی۔ اس واقعہ کو بیان کرنے کے بعد قرآن میں ارشاد ہوا ہے:
جو شخص ڈرے اور صبر کرے تو اللہ نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا (یوسف ۹۰) قرآن کی اس آیت میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر شام کے بعد صبح آتی ہے۔ ایسا ہونا لازمی ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ جب اُس پر اندھیری رات آئے تو گھبرانہ اٹھے بلکہ انتظار کی پالیسی اختیار کرے ۔ اگر وہ ایسا کرے تو جلد ہی وہ دیکھے گا کہ اُس کے اوپر سورج طلوع ہوا اور ہر طرف اُجالا پھیل گیا۔
تقویٰ یہ ہے کہ آدمی خدا کے مقرر کیے ہوئے نظام پر راضی رہے۔ اور صبر کا مطلب یہ ہے کہ وہ انتظار کی پالیسی اختیار کرے ۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں، جس پر چل کر آدمی اپنی منزل پر پہنچ سکتا ہو۔
قانونِ فطرت کے مطابق، اس دنیا میں کوئی ناکامی ابدی ناکامی نہیں۔ ہر نا کام حال کے ساتھ ایک کامیاب مستقبل جڑا ہوا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ بے صبری کر کے اس نظام کو نہ بگاڑے۔ وہ صبر کی پالیسی اختیار کر کے قدرت کے اگلے فیصلے کا انتظار کرتا رہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کے لیے یہی پالیسی مفید بھی ہے اور یہی پالیسی ممکن بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues