قوموں کا عروج و زوال
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۲۵
فطرت کے اسی اُصول کو ایک مشہور مقولہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے انتظار کرو اور دیکھو (wait and see)۔ یہ ایک عالمی تجربہ ہے جو اس مقولہ کی صورت میں ڈھل گیا ہے ۔ اس معاملہ میں یہی مذہبی تعلیم بھی ہے اور یہی فطرت کا تقاضا بھی۔
قوموں کا عروج و زوال
قرآن کی سورہ نمبر ۱۳ میں بتایا گیا ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کا قانون کیا ہے۔ یہ فطرت کے ایک اُصول پر مبنی ہے جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے ان الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بانفسهم:
بے شک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اُس کو نہ بدل ڈالیں جو اُن کے میں ہے (الرعد ۱۱)
قرآن کی اس آیت میں ما بقوم سے مراد کسی قوم کی اجتماعی حالت ہے اور ما بانفس سے مراد کسی قوم کی انفرادی حالت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی قوم کی اجتماعی ترقی کا راز یہ ہے کہ اُس کے افراد کے اندر انسانی صفات (human qualities) اعلیٰ درجہ میں موجود ہوں۔ اس کے برعکس کسی قوم کا اجتماعی زوال اُس وقت ہوتا ہے جب کہ اُس کے افراد کے اندر اعلیٰ انسانی صفات باقی نہ رہیں ۔ فرد کی حالت ہی پر ترقی کا انحصار بھی ہے اور تنزل کا انحصار بھی۔ فطرت کا یہ قانون بتاتا ہے کہ کوئی قوم اگر گراوٹ کا شکار ہو جائے تو اُس کو دوبارہ اُٹھانے کا عمل کہاں سے شروع کرنا چاہئے۔ اس کا واحد کارگر طریقہ یہ ہے کہ افراد کے اندر پھر سے شعوری بیداری لائی جائے۔ افراد کے سیرت و کردار کو بلند کیا جائے۔ افراد کے اندر اتحاد اور انسانیت کی روح کو جگایا جائے۔
قومی اصلاح کا یہی واحد طریقہ ہے۔ اس کے برعکس اگر قومی اصلاح کے نام پر عمومی تحریک (mass movement) چلائی جائے، جلسوں اور عوامی تقریروں کے ذریعہ بھیڑ کو مخاطب کیا جائے تو ایسے عمل کا کوئی مطلوب نتیجہ ہرگز نکلنے والا نہیں۔ اس قانون کے مطابق ، کسی قوم کی خارجی حالت ہمیشہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues