استحکام کا راز
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۲۶
اس کی داخلی حالت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں کسی قوم کے زوال کے وقت اُس کی اصلاح کا آغاز داخلی محنت سے ہوگا، نہ کہ خارجی کارروائیوں سے۔
استحکام کا راز
قرآن کی سورہ نمبر ۱۳ میں اس قانونِ فطرت کو بتایا گیا ہے جس کے تحت اس دنیا میں کسی کو قیام اور استحکام حاصل ہوتا ہے۔ یہ نفع بخشی (giving spirit) ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے: اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر نالے اپنی اپنی مقدار کے موافق بہہ نکلے۔ پھر سیلاب نے ابھرتے جھاگ کو اٹھا لیا اور اسی طرح کا جھاگ ان چیزوں میں بھی ابھر آتا ہے جن کو لوگ زیور یا اسباب بنانے کے لیے آگ میں پگھلاتے ہیں۔ اس طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے۔ پس جھاگ تو سوکھ کر جاتا رہتا ہے اور جو چیز انسانوں کو نفع پہنچانے والی ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اللہ اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے (الرعد۱۷)
اس آیت میں فطرت کی دو مثالوں کے ذریعہ ایک حقیقت کو واضح کیا گیا ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ سماجی اور قومی زندگی میں ایک کے مقابلہ میں دوسرے کے لیے قیام اور استحکام کا راز کیا ہے۔ وہ راز صرف ایک ہے اور وہ نفع بخشی ہے۔ اس دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ جو گروہ دینے والا گروہ (giver group) ہو اس کو دوسروں کے مقابلہ میں جماؤ اور ترقی حاصل ہو اور جو گروہ لینے والا گروہ (taker group) بن جائے وہ دوسروں کے مقابلہ میں مغلوب ہو کر رہ جائے۔
اس قانون کی روشنی میں دیکھا جائے تو محرومی کے وقت مطالبہ کی مہم سراسر بے معنی ہے۔ کیوں کہ اس دنیا میں کسی کو مطالبہ سے کچھ نہیں مل سکتا۔ اس دنیا میں جب بھی کسی کو کچھ ملے گا تو وہ صرف دینے کی قیمت پر ملے گا۔ اس معاملہ میں موجودہ دنیا کا قانون ایک لفظ میں یہ ہے۔ جتنا دینا اتنا پانا۔ شکر سے اضافہ قرآن کی سورہ نمبر ۱۴ میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ خدا کے بنائے ہوئے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues