Al-Risala · March 2004 · page 27

استحکام کا راز

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۲۷

قانون کے مطابق، اس دنیا میں شکر کرنے سے اضافہ ہوتا ہے۔ یہ قانون قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے:

اور جب تمہارے رب نے تم کو آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو زیادہ دوں گا۔ اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بڑا سخت ہے (ابراہیم ۷)

قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ کوئی پر اسرار بات نہیں۔ وہ معلوم اسباب کے تحت پیش آنے والا ایک واقعہ ہے۔ یہ واقعہ ہر ایک کے ساتھ پیش آتا ہے، فرد کے لیے فرد کی حیثیت سے اور گروہ کے لیے گروہ کی حیثیت سے۔

شکر دراصل اعتراف (acknowledgement) کا نام ہے۔ انسان کی نسبت سے جس چیز کو اعتراف کہا جاتا ہے اُسی کو خدا کی نسبت سے شکر کہا گیا ہے۔ شکریہ ہے کہ خدا نے آدمی کو جو کچھ دیا ہے، دل کی گہرائیوں کے ساتھ وہ اس کا اعتراف کرے۔

یہ شکر یا اعتراف کوئی سادہ چیز نہیں۔ اُس کا رشتہ نہایت گہرائی کے ساتھ آدمی کی نفسیات سے جُڑا ہوا ہے۔ شکر کرنے والے آدمی کے اندر تواضع، حقیقت پسندی، اعترافِ حق ، سنجیدگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ احساسات اُس کے کردار میں نمایاں ہوتے ہیں جو اُس کو ترقی کی طرف لے جاتے ہیں۔

اس کے برعکس معاملہ ناشکری کا ہے۔ ناشکری سے آدمی کے اندر سرکشی، حقیقت سے اعراض، بے اعتنائی، غیرسنجیدگی اور غیر ذمہ داری جیسی پست صفات پیدا ہوتی ہیں۔ اور جس آدمی کے اندر اس قسم کی پست صفات پائی جائیں اُس کی ترقی یقینی طور پر رک جائے گی۔ حتی کہ ممکن ہے کہ وہ ملے ہوئے کو بھی کھو دے۔ سبق لینے والے قرآن کی سورہ نمبر ۱۵ میں بعض تاریخی واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ واقعات قوموں کے عروج و زوال کی داستان کو بتاتے ہیں۔ ان تاریخی واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے: بے شک اس میں نشانیاں ہیں متوسمین کے لیے (الحجر ۷۵)

‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues

Printed page