استحکام کا راز
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۲۸
عربی زبان میں وسم کے معنیٰ علامت کے ہوتے ہیں۔ تو سم کے معنی ہیں ، کسی چیز کو علامت سے پہچاننا۔ مثلاً آپ کسی کو دیکھ کر کہیں : تو سمت فيه الخير يا تو سمت فيه الشر۔ یعنی اُس کی ظاہری حالت کو دیکھ کر میں نے اندازہ کیا کہ اُس کے اندر خیر کا مادہ ہے یا یہ کہ اُس کے اندر شر کا مادہ ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو اُس کو متوسم کہا جاتا ہے۔
یہی وہ صلاحیت ہے جو کسی آدمی کو صاحب بصیرت بناتی ہے۔ جن لوگوں کے اندر یہ صلاحیت ہو وہ ہر مشاہدہ اور ہر تجربہ سے سبق لیتے رہیں گے۔ وہ سطور میں بین السطور کو پڑھیں گے۔ وہ ظاہری واقعات میں اُس کے معنوی پہلوؤں کو دریافت کریں گے۔ وہ کسی چیز کو صرف اُس کے ظاہر (face-value) پر نہ لیں گے۔ بلکہ وہ اُس کی گہرائی تک اُتر کر اُس کی اصل حقیقت کو معلوم کریں گے۔ یہ صلاحیت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ محرومی کے واقعہ کو تجربہ میں ڈھال لے۔ وہ معلومات کو سبق بنا سکے۔ وہ حال میں مستقبل کو دیکھ لے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو کسی آدمی کو مفکر (thinker) بناتی ہے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو کسی آدمی کو مدبر کا درجہ عطا کرتی ہے۔ اس صلاحیت کے بغیر ایک آدمی صرف عالم ہے ، مگر اس صلاحیت کے ساتھ وہ ایک تخلیقی عالم بن جاتا ہے۔ منی مینجمنٹ قرآن کی سورہ نمبر ۱۷ میں بتایا گیا ہے کہ تم اپنی کمائی کو کس طرح اور کن مدوں میں خرچ کرو۔ اس سلسلہ میں قرآن کی دو آیتیں یہ ہیں :
اور رشتہ دار کو اُس کا حق دو اور مسکین کو اور مسافر کو اور فضول خرچی نہ کرو۔ بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں ، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ (بنی اسرائیل ، ۲۶-۲۷)
قرآن کی اس آیت میں جو حکم دیا گیا ہے اُس کو دوسرے لفظوں میں منی مینجمنٹ کہا جا سکتا ہے۔ یعنی اپنی کمائی کو حقیقی ضرورت کے مطابق با اصول انداز میں خرچ کرنا اور بے فائدہ کاموں میں اپنا پیسہ خرچ کرنے سے بچنا۔ فضول خرچی کے معاملہ میں قرآن اتنا زیادہ سنجیدہ ہے کہ اُس نے فضول خرچی کو
‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues