Al-Risala · March 2004 · page 29

انسانی علم کی محدودیت

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۲۹

ایک شیطانی فعل قرار دیا ہے۔

پیسہ کمانا جس طرح ایک کام ہے اسی طرح پیسہ کو خرچ کرنا بھی ایک کام ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے پیسے کو درست طور پر خرچ کرے ۔ وہ اپنے پیسہ کو ضائع نہ کرے۔ پیسہ کو درست طور پر خرچ کرنا یہ ہے کہ خرچ کی ضروری مد اور غیر ضروری مد میں فرق کیا جائے ۔ پیسہ کو صرف ضروری مد میں خرچ کیا جائے اور غیر ضروری مدوں میں پیسہ کو خرچ کرنے سے مکمل طور پر پرہیز کیا جائے۔ قرآن کی اس آیت میں فضول خرچی کو تبذیر کہا گیا ہے، یعنی پیسہ کو غیر ذمہ دارانہ طور پر بکھیرنا۔ اس قسم کی روش ایک تباہ کن روش ہے۔ پیسہ کسی کو اس لیے ملتا ہے کہ وہ اس سے اپنی حقیقی ضرورتوں کو پورا کرے اور جو پیسہ اپنی حقیقی ضرورت سے زیادہ ہو اُس کو سماج کی تعمیری مدوں میں خرچ کرے ۔ یہی خرچ کی صحیح صورت ہے اور اسی میں فرد اور سماج کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔ قرآن میں مال کو قیام (النساء ۵) کہا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مال زندگی کی تعمیر کے سلسلہ میں بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ مال ہر انسان کے پاس خدا کی ایک امانت ہے۔ جو لوگ مال کو غیر ذمہ دارانہ طور پر خرچ کریں وہ بیک وقت دوسنگین برائیوں میں مبتلا ہیں۔ ایک اعتبار سے وہ ایک مقدس امانت میں خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں اور دوسرے اعتبار سے وہ خود اپنی ذاتی تعمیر کے معاملہ میں بدترین نا عاقبت اندیشی کا شکار ہیں۔

انسانی علم کی محدودیت

قرآن کی سورہ نمبر ۱۷ میں کچھ لوگوں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ایک علمی حقیقت کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کا متعلقہ بیان یہ ہے :

اور وہ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔ اور تم کو صرف علم قلیل دیا گیا ہے۔ (بنی اسرائیل ۸۵)

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنی محدودیت (limitations) کی بنا پر علم کلی تک نہیں پہنچ سکتا ۔ علم کلی بطور واقعہ موجود ہے۔ مگر انسان کی ذاتی محدودیت کی بنا پر وہاں تک اُس کی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues

Printed page