Al-Risala · March 2004 · page 35

مصیبت کا سبب

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۳۵

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی آپ کو اپنا دشمن نظر آئے تو اُس کو اپنا مستقل دشمن نہ سمجھے۔ بلکہ اُس کی دشمنی کو ایک وقتی حالت سمجھے۔ دشمن کے بارے میں اگر اس قسم کی مثبت سوچ پیدا ہو جائے تو آدمی اس قابل ہو جائے گا کہ وہ تعصب جیسے جذبات سے اوپر اُٹھ کر دشمن کے معاملے میں اپنا رویہ متعین کرے۔ جو آدمی اس طرح غیر جذباتی انداز میں اپنے دشمن سے معاملہ کرے تو وہ یقینی طور پر کامیاب ہوگا۔

دشمن کی منفی کارروائیوں کی پروا کیے بغیر اُس کے ساتھ دوستانہ سلوک کرنا دشمن کو بدل دے گا۔ اُس کی شخصیت کے اوپر دشمنی کی جو اوپری تہ بیٹھ گئی تھی وہ دُھل جائے گی اور پھر جو شخص بظاہر آپ کا دشمن بنا ہوا تھا وہ آپ کا دوست بن جائے گا۔

مصیبت کا سبب

قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ دنیا میں شکست اور ناکامی کا سبب کیا ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ’’اور جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں ہی سے ہے، اور بہت سے قصوروں کو وہ معاف کر دیتا ہے‘‘ (الشوریٰ ۳۰) قرآن کی اس آیت میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے۔ اس قانون کے مطابق، کسی کی دشمنی کسی کو نقصان نہیں پہنچاتی۔ بلکہ یہ خود انسان ہے جو اپنی کوتاہی کی سزا پا رہا ہے۔ ہر مصیبت کا سبب آدمی کے خود اپنے اندر ہوتا ہے، نہ کہ اُس کے باہر۔

اس سے معلوم ہوا کہ جب بھی کوئی آدمی کسی مصیبت یا کسی نقصان سے دوچار ہو تو اُس کو اُس سے نجات پانے کے لیے خود اپنے اندر عمل کرنا چاہیے۔ اُس کو چاہئے کہ وہ اپنی داخلی کمیوں کو تلاش کر کے اُن کی اصلاح کرے۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے مستقبل کو درست کر سکتا ہے۔ اس کے بجائے جو آدمی یہ کرے کہ وہ اپنی مصیبت کا ذمہ دار دوسروں کو بتا کر اُن کے خلاف شکایت اور احتجاج میں مصروف ہو جائے، وہ صرف اپنا وقت ضائع کر رہا ہے۔ ایسی کوشش کبھی کسی مثبت نتیجہ تک پہنچنے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues

Printed page