مشورہ مفید ہے
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۳۶
قرآن کی یہ آیت نتیجہ خیز منصوبہ بندی کے اصول کو بتا رہی ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ آدمی بے نتیجہ کارروائیوں سے اپنے آپ کو بچائے اور صرف نتیجہ خیز سرگرمیوں میں اپنے آپ کو مصروف کردے۔ یہ فطرت کا قانون ہے، اور فطرت کا قانون کبھی کسی کے لیے بدلنے والا نہیں۔ غصہ پی جانا قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں ایک اہم اخلاقی اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اجتماعی زندگی میں جب ایک آدمی کو دوسرے کے اوپر غصہ آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ غصہ کو پی جائے اور اس کو معاف کرے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے:
’’اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں‘‘ (الشوریٰ ۳۷)
غصہ ایک غیر فطری حالت ہے۔ جب آدمی کو غصہ آتا ہے تو اس کا دماغ اپنی فطری حالت پر باقی نہیں رہتا۔ وہ معتدل انداز میں سوچنے پر قادر نہیں رہتا۔ غصہ میں مبتلا انسان نہ درست طور پر سوچ پاتا اور نہ درست طور پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کر سکتا۔ غصہ کسی آدمی کا اعتدال چھین لیتا ہے۔ وہ اس کو غیر معتدل انسان بنا دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ غصہ کو پی جانا خود اپنے آپ کی حفاظت کرنا ہے۔ غصہ کو پی جانا اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی حقیقت پسندانہ انداز میں سوچے ۔ وہ زیادہ نتیجہ خیز انداز میں اپنی کارروائی کی منصوبہ بندی کرے۔ غصہ کو پی جانا خارجی اعتبار سے ایک اخلاقی سلوک ہے۔ مگر داخلی اعتبار سے وہ اپنی تعمیر کے ہم معنی ہے۔ جب کوئی آدمی غصہ کے حالات میں غصہ نہ کرے تو وہ اپنے آپ کو بچاتا ہے۔ وہ اپنی قوت کو منفی رُخ پر جانے سے روکتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے وسائل کو بھر پور طور پر صرف اپنی تعمیر میں لگائے۔ دوسرے کی تخریب میں غیر ضروری طور پر وہ اپنے وسائل کا کوئی حصہ ضائع نہ کرے۔
مشورہ مفید ہے
قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں جو تعلیمات دی گئی ہیں اُن میں سے ایک تعلیم وہ ہے جس کو مشورہ کہا
‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues