مشورہ مفید ہے
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۳۷
جاتا ہے۔ قرآن میں اہل حق کی صفات میں سے ایک صفت اسی مشورہ کو بتایا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے: ”اور وہ اپنا کام آپس کے مشورہ سے کرتے ہیں“ (الشورٰی ۳۸)
مشورہ کا مطلب یہ ہے کہ کسی معاملہ میں حل تلاش کرنے کے کام کو اجتماعی بنا دیا جائے۔ اپنی سمجھ کے ساتھ دوسروں کی سمجھ کو اُس میں شامل کر لیا جائے۔ مشورہ کا مطلب گویا انفرادی عقل کو اجتماعی عقل بنا دینا ہے۔
مشورہ میں یہ ہوتا ہے کہ کئی آدمی کسی موضوع پر ڈسکشن کرتے ہیں۔ اِس طرح کے ڈسکشن کے فائدوں میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ معاملہ کے نئے نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ مشورہ اگر کھلے ذہن کے ساتھ کیا جائے اور تنقید اور تعریف کے جذبہ سے بلند ہو کر اِس کو سُنا جائے تو مشورہ کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ مشورہ میں جو فائدے ہیں اُن کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ لوگ تحفظ ذہنی کے ساتھ نہ بولیں بلکہ وہ جو کچھ کہیں کھلے ذہن کے ساتھ کہیں اور سننے والے بھی اِس کو کھلے ذہن کے ساتھ سنیں۔ یہ سب مشورہ کے آداب ہیں۔ جس مشورہ میں ان آداب کو ملحوظ رکھا جائے وہ مشورہ بے حد با برکت بن جاتا ہے۔ مشورہ کو اگر حسن نیت کے ساتھ کیا جائے تو وہ ایک عبادت ہے۔ مشورہ دین اور دنیا دونوں قسم کے فائدوں کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اپنے اصحاب کے ساتھ کھلا مشورہ کرتے تھے اور لوگ کسی پابندی کے بغیر اپنی رائے دیتے تھے۔ ماننے سے پہلے تحقیق قرآن کی سورہ نمبر ۴۹ میں اجتماعی زندگی کے بارہ میں ایک اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ کسی بات کو صرف سُن کر نہ مان لیا جائے۔ مذکورہ آیت کا ترجمہ یہ ہے:
”اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچا دو، پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے“ (الحجرات ۶)
لوگ جب مل جل کر رہتے ہیں تو اجتماعی زندگی کے نتیجہ میں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues