کلام کے آداب
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۳۸
بنیاد پر کوئی رائے قائم نہ کی جائے۔
تجربہ بتاتا ہے کہ اکثر ایک کی بات دوسرے تک صحیح شکل میں نہیں پہنچتی۔ بات کو پہنچانے والا درمیانی شخص اکثر بات کو بدل دیتا ہے۔ مزید یہ کہ ہر بات کا ایک بیک گراؤنڈ یا موقع ومحل ہوتا ہے۔ مگر بات کو نقل کرنے والا اکثر ایسا کرتا ہے کہ وہ بیک گراؤنڈ کو بتائے بغیر مجرد شکل میں بات کو بیان کر دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بات اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے کچھ ہوتی ہے اور سننے والے تک پہنچ کر وہ کچھ اور ہو جاتی ہے۔ اس غلط فہمی کی بنا پر سننے والا آدمی غلط رائے قائم کرتا ہے اور غلط اقدام کر ڈالتا ہے، جس کا نتیجہ آخر کار اس صورت میں نکلتا ہے کہ آدمی اپنے کیے پر شرمندہ ہوتا ہے، حالاں کہ اب وقت اُس کے ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔
یہ مسئلہ ہر سماج میں پیش آتا ہے۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر یہ مزاج بنائے کہ وہ صرف سن کر کسی بات کو نہ مان لے ۔ ماننے سے پہلے وہ ضروری تحقیق کرے۔ اور اگر وہ تحقیق نہیں کر سکتا تو ایسی حالت میں اُس کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ سنی ہوئی بات کو بھلا دے۔ وہ اْس پر نہ کوئی رائے قائم کرے اور نہ اْس کی بنیاد پر کسی اقدام کا منصوبہ بنائے۔
کلام کے آداب
قرآن کی سورہ نمبر ۴۹ میں کچھ اخلاقی ہدایات دی گئی ہیں۔ یہ اخلاقی ہدایات کلام کے آداب سے متعلق ہیں۔ قرآن کی اس آیت کا ترجمہ یہاں نقل کیا جاتا ہے:
’’اے ایمان والو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں۔ اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو بُرے لقب سے پکارو۔ ‘‘ (الحجرات ۱۱)
‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues