کلام کے آداب
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۳۹
قرآن کی اس آیت میں اُس اجتماعی مسئلہ کا ذکر ہے جو اکثر ایک اور دوسرے کے درمیان اختلاف کی صورت میں پیدا ہوتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اختلاف پیش آتے ہی دوسرے کو غلط اور اپنے کو صحیح سمجھ لیتے ہیں۔ اس نفسیات کے تحت یہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کا مذاق اُڑانے لگتا ہے۔ وہ اُس کے خلاف تحقیری الفاظ بولتا ہے۔ وہ اُس کی طعنہ زنی کرتا ہے۔ وہ اُس کو بُرے نام سے پکارنے لگتا ہے۔ وہ اُس کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ چیزیں سماج کے اندر آپس کے تعلقات میں کڑواہٹ پیدا کر دیتی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے سے متنفر ہو جاتے ہیں۔ خوشگوار باہمی تعلقات کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ یہ ایک سماجی بگاڑ ہے جس کا بُرا نتیجہ ہر ایک کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ لوگ صرف رایوں کے اختلاف کی بنا پر ایک دوسرے کے بارہ میں بُرا گمان قائم نہ کریں۔ اختلاف کے وقت لفظی ریمارک دینے سے مکمل پرہیز کریں۔ اس کے بجائے وہ ایسا کریں کہ جب کسی سے اختلاف پیدا ہو تو سنجیدگی اور غیر جانبداری کے ساتھ اُس پر غور کریں اور پھر اپنی بات کو دلیل کے انداز میں بیان کریں۔ علمی تنقید میں کوئی حرج نہیں مگر ذاتی تنقیص یقینی طور پر بُری چیز ہے اور انسان کی اجتماعی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔
اجتماعی زندگی میں لوگوں کا سابقہ ایک دوسرے کے ساتھ جس چیز میں پڑتا ہے وہ زبان ہے۔ زبان کا غلط استعمال آپس میں تلخی پیدا کر دیتا ہے اور زبان کا درست استعمال آپس میں محبت کو بڑھاتا ہے۔ زبان سے آدمی صرف کچھ الفاظ بولتا ہے مگر یہ الفاظ عملی اعتبار سے بڑے بڑے نتائج پیدا کرتے ہیں، اچھے بھی اور بُرے بھی، خواہ خاندانی زندگی ہو یا وسیع تر معنوں میں سماجی زندگی، ہر جگہ زبان کا استعمال بے حد اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ زبان کے استعمال میں بے حد محتاط رہے۔ ڈی کنڈیشننگ کی ضرورت قرآن کی سورہ نمبر ۵۰ میں آخرت کا ایک منظر بتایا گیا ہے۔ حق کے منکرین دوبارہ زندہ ہو کر خدا کے سامنے لائے جائیں گے۔ اُس وقت خدا اُن سے خطاب کرتے ہوئے فرمائے گا— وَلَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هَذَا فَكَشَفْنَا
‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues