لالچ کا نقصان
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۴۰
عنك غطاءك فبصرك اليوم حديد :
"ہر شخص اس طرح آ گیا کہ اُس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا۔ تم اس سے غفلت میں رہے، پس ہم نے تمہارے اوپر سے پردہ ہٹا دیا، پس آج تمہاری نگاہ تیز ہے۔ " (ق ٢١- ٢٢)
قرآن کی ان آیتوں میں جس معاملہ کا ذکر ہے اُس کو انسانی زبان میں کنڈیشننگ اور ڈی کنڈیشننگ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ آدمی اپنے بچپن میں اور جوانی کی عمر میں ذہنی اعتبار سے غیر پختہ (immature) ہوتا ہے۔ اس زمانہ میں وہ تجزیہ کرنے اور صحیح اور غلط میں امتیاز کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہر آدمی اپنے ماحول کے اعتبار سے متاثر ذہن بن جاتا ہے۔ اسی کو نفسیات کی اصطلاح میں کنڈیشننگ (conditioning) کہتے ہیں۔
اس کنڈیشننگ کی بنا پر آدمی اس قابل نہیں رہتا کہ وہ چیزوں کو بے آمیز صورت میں دیکھ سکے۔ وہ چیزوں کو ویسا نہیں دیکھتا جیسا کہ وہ ہیں۔ بلکہ وہ چیزوں کو اُس طرح دیکھتا ہے جیسا کہ اُس کا ذہن اُس کو دکھانا چاہتا ہے۔
اس لیے صحیح طرزِ فکر یا آبجیکٹیو تھنکنگ (objectivethinking) کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر آدمی اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ وہ اپنے ذہن کے اوپر پڑے ہوئے مصنوعی پردوں کو ایک ایک کر کے ہٹا دے۔ خود احتسابی کا یہ عمل ہر آدمی کو لازماً کرنا ہے۔ اس ڈی کنڈیشننگ کے بغیر کوئی آدمی اس قابل نہیں ہو سکتا کہ وہ حقیقت میں بنے، وہ چیزوں کے بارہ میں بالکل درست رائے قائم کر سکے۔
لالچ کا نقصان
قرآن کی سورہ نمبر ۵۹ میں ایک ایسی اخلاقی بُرائی کی نشاندہی کی گئی ہے جو انسان کی کامیابی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ قرآن کی اس آیت کا ترجمہ یہ ہے:
"اور جو شخص اپنے جی کے لالچ سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں" (الحشر ٩)
‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues