ایثار نفس
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۴۱
لالچ شح نفس) کیا ہے۔ یہ دراصل دل کی تنگی ہے۔ یہ دل کی تنگی سے پیدا ہونے والی صفت کا دوسرا نام ہے۔ انسانوں میں دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ تنگ دل اور فراخ دل۔ تنگ دل انسان وہ ہے جو اپنی ذات کے دائرہ میں سوچے ۔ جس کا مقصد صرف اپنی ذات کو فائدہ پہنچانا ہو۔ یہی وہ آدمی ہے جو لالچ یا شح نفس میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
کوئی شخص جب بھی کوئی فائدہ حاصل کرتا ہے تو وہ سماج کے مجموعی تعاون کی مدد سے حاصل کرتا ہے۔ ایسی حالت میں لالچ یا تنگ دلی کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے لیے تو سماج سے لینا چاہتا ہے مگر وہ خود سماج کو دینا نہیں چاہتا۔ اس قسم کی خود غرضی کبھی کسی کے لیے مفید نہیں ہوسکتی، نہ فرد کے لیے اور نہ قوم کے لیے۔
اس دنیا میں کامیابی صرف وہ لوگ حاصل کرتے ہیں جو کھلا دل رکھتے ہوں۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ جتنا بڑا دل اتنی بڑی کامیابی ۔ بڑے دل والا آدمی اس بات کا حوصلہ رکھتا ہے کہ وہ دوسروں کی رعایت کرے۔ وہ دوسروں کو فائدہ پہنچا کر خوش ہو۔ وہ شکایت کے باوجود دوسروں کے ساتھ بہتر معاملہ کرے۔ وہ معاملات کو بلند سطح سے دیکھے۔ جس آدمی کے اندر یہ اعلیٰ صفات ہوں وہ لوگوں کے درمیان باعزت درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ اور جو آدمی دوسروں کے درمیان باعزت درجہ حاصل کرلے اُس کی کامیابی کو کوئی روکنے والا نہیں۔
ایثار نفس
قرآن کی سورہ نمبر ۵۹ میں اعلیٰ انسانوں کی صفات بتائی گئی ہیں۔ ان اعلیٰ صفات میں سے ایک صفت ایثار نفس ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے:
"اور وہ دوسروں کو اپنے اوپر مقدم رکھتے ہیں ۔ اگر چہ اُن کے اوپر فاقہ ہو‘ (الحشر ۹) ایثار نفس ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ ایثار نفس کا مطلب ہے، اپنی ضرورت پر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دینا۔ اپنے حق میں کمی کر کے دوسرے کا حق پورا کرنا۔ یہ صفت ایک فرد کے لیے اعلیٰ انسانیت کا مظاہرہ ہے، اور سماجی اعتبار سے وہ سماج کی مجموعی ترقی کا ضامن ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues