اعلیٰ اخلاق
الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۴۲
انسانیت کی مجموعی ترقی کے لیے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہی صفت ہے۔ جس سماج کے افراد میں یہ مزاج ہو کہ وہ اپنے آپ کو بھلا کر دوسرے کی مدد کریں ۔ وہ اپنی سیٹ کو خالی کر کے دوسرے کو بیٹھنے کی جگہ دیں۔ وہ دوسرے کی خوبی کا اعتراف کر کے اُس کو آگے بڑھائیں تو ایسے سماج میں مجموعی ترقی کا عمل کامیابی کے ساتھ جاری رہتا ہے۔
جس سماج میں یہ صفت ہو اُس میں آپس کی محبت بڑھے گی۔ لوگ ایک دوسرے کے لیے قربانی دینے پر تیار رہیں گے۔ سماج کے لوگوں میں حسد اور بغض اور خود غرضی جیسی برائیوں کی جڑ کٹ جائے گی۔ ایسے سماج میں اعلیٰ اخلاقی اوصاف پرورش پائیں گے۔ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے خیر خواہی ہوگی۔ ایسا سماج گویا ایک خاندان کی مانند ہوگا جس میں لوگ بھائی بہن کی طرح مل کر رہیں گے۔
ایثار نفس بظاہر ایک قربانی ہے۔ مگر اُسی میں ذاتی فائدہ کا راز بھی چھپا ہوا ہے۔ جو آدمی دوسروں کے ساتھ ایثار کا معاملہ کرے وہ دوسروں کے دل کو جیت لیتا ہے ، اور جب دلوں کو جیت لیا جائے تو اُس کے بعد کوئی اور چیز جیتنے کے لیے باقی نہیں رہتی۔
اعلیٰ اخلاق
قرآن کی سورہ نمبر ۶۸ میں اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اور اُس کو انسانیت کا اعلیٰ مرتبہ قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی آیت یہ ہے: "اور بے شک تم ایک اعلیٰ اخلاق پر ہو (القلم ۴)
اس آیت میں بظاہر رسول سے خطاب ہے۔ مگر وہ ہر انسان کے لیے ایک عمومی تعلیم ہے۔ وہ ہر انسان کو اعلیٰ انسان بننے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اُس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ بُرائی کرنے والوں کے ساتھ بُرائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی، بلکہ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے۔ خواہ دوسرے اُس کے ساتھ بُرائی ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues