Al-Risala · March 2004 · page 43

اعلیٰ اخلاق

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۴، صفحہ ۴۳

اعلیٰ انسان کا اخلاق یہی دوسرا اخلاق ہوتا ہے۔ اس قسم کا اخلاق کسی انسان کے بارے میں یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک با اصول انسان ہے۔ ایسا اخلاق اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کی شخصیت حالات کی پیداوار نہیں بلکہ وہ خود اپنے اختیار کردہ اعلیٰ اصول کی پیداوار ہے۔ جس انسان کے اندر اس قسم کا اعلیٰ اخلاق ہو وہی حقیقی انسان ہے اور جس آدمی کے اندر یہ اعلیٰ اخلاق نہ پایا جائے وہ انسان کی صورت میں ایک حیوان ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔

اعلیٰ اخلاق کی صفت انسان کو حیوان سے جُدا کرتی ہے۔ حیوان مساویانہ اخلاق کی سطح پر جیتے ہیں ۔ کوئی اُن کو نہ چھیڑے تو وہ بے ضرر رہیں گے اور اگر کوئی اُن کو چھیڑ دے تو وہ اُس کے لیے ضرر رساں بن جائیں گے۔ اعلیٰ انسانی اخلاق یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے رویہ سے بلند ہو کر اپنا رویہ بنائے ۔ دوسرے لوگ خواہ اُس کے ساتھ اچھے نہ ہوں مگر وہ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ اچھا معاملہ کرے۔ ناپ تول میں فرق کرنا قرآن کی سورہ نمبر ۸۳ میں زندگی کی ایک حقیقت کا بیان ہے۔ قرآن میں اس کو تطفیف کے لفظ میں بتایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی مذکورہ آیت یہ ہے :

" خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔ جو لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں۔ اور جب اُن کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا کر دیں" (التطفیف ۱- ۳)

قرآن کی اس آیت میں ناپ اور تول کی مثال سے ایک سماجی بُرائی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس میں اُس کردار کا ذکر ہے جس کا یہ حال ہو کہ اُس کو جب اپنے لیے لینا ہو تو وہ بھر پور طور پر لے۔ اور جب دوسروں کو دینا ہو تو وہ کمی کر کے دوسروں کو دے۔ یہ تفریق ایک ایسی اخلاقی بُرائی ہے جو آدمی کو تباہی کے سوا کہیں اور نہیں پہنچاتی۔

اس معاملہ کا تعلق زندگی کے تمام پہلوؤں سے ہے۔ مثلاً خود اپنی تعریف سننے کا حریص ہونا مگر دوسروں کی خوبیوں کا اعتراف کرنے میں بخل کرنا۔ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے خوب ہوشیار ہونا مگر دوسروں کے مفاد کو سمجھنے کے لیے نادان بن جانا۔ معاملات میں اپنے لیے رعایت چاہنا اور دوسروں

‹ Previous page Next page › Contents of March 2004 All issues

Printed page