میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۱۵
کھیتوں کے کنارے واقع تھی۔ رات کے سنسان ماحول میں عشاء کی نماز پڑھنا بڑا عجیب تجربہ تھا۔ اس وقت وہاں میرے ساتھ کوئی اور نمازی نہیں ہوتا تھا۔ میں خود ہی اذان دیتا اور خود ہی تکبیر کہہ کر جماعت کے طور پر نماز ادا کرتا اور پھر لالٹین لے کر واپس اپنے گھر آ جاتا۔
مگر اب۴۰ سال کے بعد مسجد سمیت یہ پوری جگہ نہایت بارونق ہو گئی ہے۔ اب وہاں مسجد سے متصل سڑک گزر رہی ہے۔ بجلی اور ٹیلی فون آ چکا ہے۔ مسجد کے بالکل سامنے ایک معیاری اسکول قائم ہو گیا ہے۔ اب یہاں رات دن چہل پہل رہتی ہے۔
اس قسم کے واقعات ہر جگہ پیش آ رہے ہیں۔ ان واقعات میں نہایت امید افزا پیغام چھپا ہوا ہے۔ مگر عجب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں تمام مسلمان، مذہبی اور غیر مذہبی دونوں شکایت کی بولی بولتے ہیں۔ مجھے اپنے تجربہ میں پوری مسلم دنیا میں کوئی شخص نہیں ملا جو شکر کے جذبہ سے سرشار ہو اور حقیقی طور پر شکر کے کلمات بولتا ہو۔
ہندوستان ٹائمس (۵ ستمبر ۲۰۰۳) میں سوامی نکھل نندا کا ایک مضمون فیتھ (Faith) کے کالم میں چھپا ہوا تھا۔ اس کا عنوان یہ تھا: Practical Spirituality for All اس مضمون میں سوامی جی نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کھانے سے پہلے آپ یہ کہیں کہ میں اس کھانے کو خدا کے لیے پیش کرتا ہوں تو خود کھانا بھی ایک روحانی عمل بن جائے گا۔ "If just before eating you say "I offer this food to God" then eating itself becomes a spiritual act."
میں نہیں سمجھ سکا کہ اس میں روحانیت کا پہلو کیا ہے۔ کھانا خدا کے لیے پیش کرنا یا تو ایک رسم ہے یا وہ یاد دلاتا ہے کہ انسان دینے والا ہے اور خدا پانے والا۔ اس قسم کا عمل کسی کے لیے روحانی تجربہ کیسے بن سکتا ہے۔
کھانا اور پانی بلاشبہ عظیم روحانی تجربہ کا ذریعہ ہیں۔ کھانے پینے کا یہ روحانی فائدہ اس وقت مل سکتا ہے جب کہ آدمی خدا کو ایک زندہ وجود کی حیثیت سے مانتا ہو۔ وہ اس یقین میں جیتا ہو کہ کھانے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues