Al-Risala · April 2004 · page 16

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۱۶

پینے کی نعمتیں اس کو خدا نے دی ہیں۔ اس قسم کا زندہ احساس جب کسی آدمی کے اندر پیدا ہو تو اس وقت وہ ایک تھرلنگ اکسپیرینس (thrilling experience) کا تجربہ کرتا ہے۔ اسی تجربہ کا نام روحانیت ہے۔ ۶ ستمبر کی صبح کو چھ بجے ہمارا قافلہ دہلی سے میرٹھ کے لیے بذریعہ کار روانہ ہوا۔ سب سے پہلے میں نے لوگوں سے کہا کہ آپ لوگ قرآن کی یہ آیت پڑھیں: سبحن الذی سخر لنا هذا وما كنا له مقرنین (پاک ہے وہ جس نے ان چیزوں کو ہمارے بس میں کر دیا اور ہم ایسے نہ تھے کہ ان کو قابو میں کرتے) الزخرف ۱۴۔

میں نے کہا کہ چند سو سال پہلے سفر کرنا اتنا مشکل تھا کہ کہا جاتا تھا کہ السفر کالسقر (سفر جہنم کی مانند ہے) مگر آج مختلف ترقیوں کے نتیجہ میں سفر ایک قسم کی تفریح (entertainment) کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔

یہ خدا کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اگر آدمی کو اس نعمت کا واقعی احساس ہو تو اس کا سفر ایک روحانی سفر بن جائے گا۔ میں نے کہا کہ سفر کے اس روحانی پہلو کی بنا پر خدا پرستوں کی صفت قرآن میں السائحون بتائی گئی ہے، یعنی سیاحت کرنے والے۔

سفر کو کیوں خدا پرست انسان کی صفت بتایا گیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سفر میں مختلف قسم کے تجربات ہوتے ہیں۔ ان تجربات کے دوران مسافر کی زبان سے ذکر و دعا کے وہ الفاظ نکلتے ہیں جو مقیم کی زبان سے نہیں نکلتے۔ مثلاً آپ لوگ سفر پر چل رہے ہیں۔ سڑک کے اوپر آپ کی گاڑی دوڑتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے۔ اگر آپ کے ربانی احساسات زندہ ہوں تو یہ سفر نفسیات کے اعتبار سے آپ کے لیے ایک اور سفر میں تبدیل ہو جائے گا۔ آپ کی زبان سے یہ دعا نکلے گی کہ خدایا، میرے سفر کو جنت کا سفر بنا دے۔

ہماری گاڑی دہلی کی سڑکوں سے نکل کر آگے بڑھی تو ایک مقام پر سڑک کے کنارے ایک ٹرک الٹا ہوا دکھائی دیا۔ یہ ٹرک سامان سے لدا ہوا تھا اور ڈرائیور کی کسی غلطی کی وجہ سے الٹ گیا۔ اب دوڑنے والا ٹرک سڑک کے کنارے الٹا ہوا پڑا تھا۔ منزل پر پہنچنے کے بجائے درمیان ہی میں اس کا سفر

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page