میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۱۷
ختم ہو گیا۔ میں نے سوچا کہ انسانی زندگی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ہر انسان اپنی زندگی کی گاڑی دوڑا رہا ہے مگر صرف اسی کی گاڑی منزل مقصود پر پہنچتی ہے جو ہوش مندی کے ساتھ اپنا سفر طے کرے۔ جو لوگ ہوش مندی کا ثبوت نہ دیں، ان کا انجام یہی ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کی گاڑی کسی حادثہ کا شکار ہو جائے اور ان کا خواب پورا ہونے سے پہلے بکھر جائے۔
سڑک دہلی سے میرٹھ تک مسلسل خراب نظر آئی۔ ہم جس گاڑی سے آئے وہ ایک نئی گاڑی تھی مگر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہم کسی نا ہموار راستہ سے بیل گاڑی میں سفر کر رہے ہیں۔ چنانچہ ڈیڑھ گھنٹہ کا راستہ تین گھنٹہ میں طے ہوا۔
ہمارے ملک میں اکثر سڑکوں کا کم و بیش یہی حال ہے۔ اس کا واحد سبب کرپشن ہے۔ میں نے بار بار مغربی ملکوں کا سفر کیا ہے۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ہر جگہ نہایت عمدہ سڑکیں بنی ہوئی ہیں جن کے اوپر گاڑیاں پوری رفتار کے ساتھ دوڑتی ہیں۔
اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ وہاں کرپشن جیسی چیزیں نہیں ہیں۔ وہاں بھی کرپشن موجود ہے۔ مگر ان کا کرپشن عقلمندی کے ساتھ ہے، نہ کہ بے وقوفی کے ساتھ۔ مثلاً انہوں نے بلا اعلان یہ طے کر رکھا ہے کہ ترقی کے لیے سب سے بڑی چیز انفراسٹرکچر ہے۔ ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کرپشن کرتے ہیں مگر انفراسٹرکچر کی قیمت پر نہیں۔ وہ سڑک، ٹیلی فون، بجلی اور اس طرح کی دوسری چیزیں اعلی معیار کی بنائیں گے ۔ وہ کسی بھی وجہ سے اس کے معیار میں کمی نہیں کریں گے۔ پھر اس کے بعد اپنے ذاتی مفاد کے لیے جو کچھ کرنا ہے کریں گے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہیں اور ذاتی مفاد کو مؤخر۔ بدقسمتی سے یہ اسپرٹ ہمارے ملک میں نہیں۔
سفر کرتے ہوئے ہم لوگ وہاں پہنچے جس کو میرٹھ۔ ہاپوڑ بائی پاس کہا جاتا ہے۔ یہاں الرسالہ کے قارئین کی ایک جماعت ہمارے انتظار میں کھڑی ہوئی تھی۔ مثلاً مولا نا محمد عرفان قاسمی صاحب، ساجد خاں صاحب ، شہزاد علی صاحب، وغیرہ۔
عام طور پر سیاسی لیڈروں کا حال یہ ہے کہ جب وہ اس طرح کسی مقام پر پہنچیں اور وہاں لوگ
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues