میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۱۸
ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہوں تو اس منظر کو دیکھ کر وہ فخر کے جذبات سے بھر جاتے ہیں۔ مگر میرا حال برعکس طور پر یہ ہوا کہ میری آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ یہ شکر کے آنسو تھے۔ میں نے سوچا کہ پچھلے زمانہ میں کبھی ایسا نہیں ہو سکتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں موبائل ٹیلیفون نے اس کو ممکن بنا دیا ہے۔ موبائل ٹیلیفون اللہ تعالیٰ کی عجیب نعمت ہے۔ آپ کسی بھی مقام سے کسی بھی مقام کے لوگوں کو اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں، حتی کہ آپ سفر میں ہوں تب بھی۔ چنانچہ سفر کے دوران موبائل ٹیلیفون کے ذریعہ ہمارا رابطہ قارئین الرسالہ کے مذکورہ افراد سے جاری رہا۔ دوران سفر اس ٹیلی فونی رابطہ کا نتیجہ تھا کہ جب ہماری گاڑی مذکورہ بائی پاس پر پہنچی تو وہاں الرسالہ کے قارئین پیشگی طور پر ہماری رہنمائی کے لیے موجود تھے۔ میرٹھ کی پرہجوم سڑکوں سے گزرتے ہوئے ہمارا قافلہ جناب محمد ساجد خاں صاحب کے مکان پر پہنچا۔ اس وقت تقریباً ۹ بج چکے تھے۔ یہاں صبح کا ناشتہ کیا گیا۔ دہلی سے میں نے محمد ساجد خاں صاحب کو ٹیلیفون کیا تھا کہ ہم لوگ ۶ ستمبر کو صبح کا ناشتہ آپ کے یہاں کریں گے۔ مگر ناشتہ سادہ ہونا چاہئے۔ محمد ساجد خاں صاحب نے اس کا پورا لحاظ کیا اور میری پسند کے مطابق سادہ قسم کا ناشتہ کرایا۔ اس کے بعد میرٹھ کا پہلا پروگرام شروع ہوا۔
ساجد خاں صاحب کے مکان کی اوپر کی منزل پر ہال نما کمرہ میں لوگ اکٹھا ہو گئے۔ یہاں مائک کا بھی انتظام تھا۔ پہلے مولانا محمد عرفان قاسمی نے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں الرسالہ مشن کا تعارف کرایا۔ اس تعارف کے دوران انہوں نے ایک بات یہ کہی کہ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو ہر مسلمان کے انفرادی معاملات درست ہیں۔ مگر مسلمانوں کے اجتماعی معاملات بگڑے ہوئے ہیں۔ اس فرق پر غور کیجئے تو اس میں ہمارے سوالوں کا جواب مل جائے گا۔ یعنی مسلمان اپنے ذاتی مسئلہ کو جس فارمولا کو اختیار کر کے حل کئے ہوئے ہیں اسی فارمولا کو وہ ملت کے اجتماعی مسائل کے حل کے لیے استعمال نہیں کرتے۔ یعنی حالات زمانہ کی رعایت ۔ اس دہراروش کو بدل دیا جائے تو سارے مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے۔
میں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ انسانی تاریخ خدائی قانون کے تحت چل رہی ہے۔ کوئی بھی شخص
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues