Al-Risala · April 2004 · page 19

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۱۹

اس قانون کو بدلنے پر قادر نہیں۔ وہ قانون یہ ہے کہ تاریخ ہمیشہ آگے کی طرف جائے، وہ کبھی پیچھے کی طرف اپنا سفر شروع نہ کرے۔ میں نے کچھ مثالیں دے کر بتایا کہ یہ خدائی قانون ہمارے حق میں بار بار درست ثابت ہوا ہے۔ مثلاً ۱۹۴۷ سے پہلے میں اپنی نوجوانی کی عمر میں یہ سنا کرتا تھا کہ ملک کے کچھ کٹّر لوگوں کا یہ منصوبہ ہے کہ وہ آزادی کے بعد ہندوستان کو دوسرا اسپین بنائیں ۔ یعنی یہاں سے مسلمانوں کا خاتمہ کر دینا، جیسا کہ پہلے اسپین میں ہوا۔ اسی مفروضہ ڈر کی بنا پر مسلمان اس انتہائی حد تک گئے کہ انہوں نے سخت ناعاقبت اندیشانہ طور پر ملک کی تقسیم کے غیر فطری فارمولے کا ساتھ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ برصغیر ہند کے مسلمان جو پہلے ایک واحد ملت تھے وہ آج چار ٹکڑوں میں بٹ گئے ۔ بھارت، پاکستان ، بنگلہ دیش اور کشمیر۔

مگر حالات بتاتے ہیں کہ یہ مفروضہ سراسر بے بنیاد تھا۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ۱۹۴۷ میں بھارت کے اندر مسلمانوں کی تعداد چھ کروڑ تھی اور اب ہندی اخبار دینک جاگرن کی رپورٹ کے مطابق ، یہاں مسلمانوں کی تعداد ۲۲ کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ گویا کہ جو انتہا پسند لوگ تاریخ کی گاڑی کو پیچھے لے جانا چاہتے تھے وہ ہار گئے اور تاریخ آگے بڑھ گئی۔

تقریر کے آخر میں سوال و جواب کا پروگرام تھا۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا محمد عرفان قاسمی نے کہا کہ کسی کو مستقل دشمن سمجھ لینا فطرت کے خلاف ہے۔ اور مسلمانوں کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو اپنا مستقل دشمن سمجھ لیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی جو آج بظاہر دشمن نظر آتا ہے وہ مستقبل میں آپ کا دوست بن سکتا ہے۔ اسلام اسی امید کی تعلیم دیتا ہے (فصلت ۳۴)۔ اسلام امید کا مذہب ہے، نہ کہ ناامیدی کا مذہب۔

ایک صاحب نے یہ سوال کیا کہ ایمان جامد ہے یا ترقی پذیر۔ انہوں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ الایمان یزید و ينقص ۔ تاہم اکثر علماء کا رجحان یہ ہے کہ ایمان ایک جامد چیز ہے وہ ترقی پذیر چیز نہیں۔

میں نے کہا کہ اس حدیث کو آپ اس وقت سمجھ سکتے ہیں جب اُس کو آپ قرآن کی آیتوں

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page