میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۲۰
سے ملا کر دیکھیں۔ قرآن کی مختلف آیتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ایمان بڑھتا رہتا ہے۔ چنانچہ ایمان کو ایک شجر سے تشبیہ دی گئی ہے جو ایک اضافہ پذیر چیز ہے اور جو نیچے سے شروع ہو کر اوپر تک جاتا ہے۔ مگر آدمی کی بے شعوری کے نتیجہ میں ایمان میں نقص بھی واقع ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث میں بتایا گیا۔
میں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ خیال بالکل بے بنیاد ہے کہ انڈیا میں مسلمان تباہ ہو ر ہے ہیں۔ یہاں جو لوگ بیٹھے ہیں ان میں سے ہر شخص سے میں یہ کہتا ہوں کہ وہ سوچیں کہ ۱۹۴۷ سے پہلے ان کے خاندان کی معاشی حالت کیا تھی اور آج ان کے خاندان کی معاشی حالت کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے ہر شخص یہ کہے گا کہ آج ہمارے خاندان کی معاشی حالت ۱۹۴۷ کے مقابلہ میں بہت زیادہ بہتر ہے۔ پھر مفروضہ تباہی کا واقعہ کہاں ہورہا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ انڈیا میں مسلمانوں کے کچھ مسائل ہیں۔ مگر یہ انڈیا کی بات نہیں بلکہ یہ قانون فطرت کی بات ہے۔ فطرت کے قانون کے تحت مسئلہ زندگی کا لازمی حصہ ہے وہ ہر جگہ موجود رہتا ہے، حتی کہ مسلم حکومت میں بھی۔ مسئلہ کا حل حکیمانہ تدبیر میں چھپا ہوا ہے نہ کہ شکایت اور احتجاج میں۔
میں نے مزید کہا کہ میں ساری دنیا میں سفر کرتا رہتا ہوں، میں نے ساری دنیا کے حالات کا مطالعہ کیا ہے۔ ہر ملک کے لوگوں سے میری ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔ اس وقت دنیا میں ۵۷ مسلم ملک موجود ہیں۔ میں پوری سنجیدگی کے ساتھ کہتا ہوں کہ انڈیا کے مسلمان دوسرے تمام مسلم ملکوں سے زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ مثلاً انڈیا میں اس وقت مسلمان ۲۲ کروڑ ہیں۔ یہ تعداد کسی مسلم ملک کی تعداد سے زیادہ ہے۔ پوری مسلم دنیا کا سب سے بڑا سائنسداں انڈیا میں ہے اور اس کا نام ڈاکٹر عبدالكلام ہے۔ پوری مسلم دنیا کا سب سے زیادہ دولت مند آدمی ہندوستان میں ہے اور اس کا نام عظیم ہاشم پریم جی ہے۔ پوری مسلم دنیا کی سب سے بڑی مسلم کمپنی ہندوستان میں ہے اور اس کا نام سپلہ ہے۔ پوری مسلم دنیا کی سب سے بڑی مسلم جماعت کا مرکز انڈیا میں ہے اور یہ وہ ہے جو تبلیغی جماعت کے نام سے مشہور ہے۔ پوری مسلم دنیا کے سب سے بڑے تعلیمی ادارے ہندوستان میں ہیں۔ مثلاً مسلم
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues