Al-Risala · April 2004 · page 21

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۲۱

یونیورسٹی علی گڑھ، دار العلوم دیو بند، ندوۃ العلماء لکھنؤ، وغیرہ۔

اس کے علاوہ اور بھی کئی چیزیں ہیں جو انڈیا میں موجود ہیں۔ مثلاً انڈیا میں مسلم کمیونٹی کے ساتھ ایک اور بڑی کمیونٹی ہندو کی شکل میں موجود ہے۔ اس بنا پر یہاں مسابقت (competition) کا ماحول قائم ہے۔ اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ترقی صرف اس قوم کو ملتی ہے جس کو مسابقت کے درمیان جینے کا موقع ملے۔ اسی طرح انڈیا میں بیک وقت دو بڑی نعمتیں موجود ہیں، امن اور آزادی۔ دنیا کے کسی بھی مسلم ملک میں یہ دونوں چیزیں بیک وقت موجود نہیں۔ اگر کہیں امن ہے تو آزادی نہیں اور اگر کسی ملک میں آزادی ہے تو امن نہیں۔

اس اجتماع میں تعلیم یافتہ خواتین بھی شریک تھیں ۔ ان کے لیے یہ انتظام کیا گیا تھا کہ ایک علیحدہ کمرہ میں لاؤڈ اسپیکر اور اسی کے ساتھ وی سی آر لگایا گیا تھا۔ اس طرح وہ ہمارے پروگرام کو پوری طرح سن سکتی تھیں اور دیکھ سکتی تھیں۔

اس اجتماع کے آخر میں مجھے بتایا گیا کہ خواتین مجھ سے کچھ اور جاننا چاہتی ہیں۔ چنانچہ میں وہاں گیا۔ خواتین سے جو باتیں میں نے کیں ان میں ایک بات یہ تھی کہ آج کل اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لڑکیاں نکاح کے بعد جب اپنی سسرال جاتی ہیں تو ان کے لیے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ اکثر لڑکیاں اس احساس کے ساتھ زندگی گزارتی ہیں کہ ان کی شادی کامیاب شادی نہیں۔ میں نے کہا کہ لڑکی کے ماں باپ اس کی ذمہ داری عام طور پر سسرال والوں پر ڈالتے ہیں مگر میرے تجربے کے مطابق ، اس کی اصل ذمہ داری لڑکی کے ماں باپ پر عائد ہوتی ہے۔

ماں باپ عام طور پر اپنی لڑکی کے بارے میں ایک ہی چیز جانتے ہیں ، اور وہ لاڈ پیار ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ لڑکی کے ساتھ یہ لاڈ پیار (pampering) سب سے بڑی دشمنی ہے۔ یہ ماں باپ اپنی محبت میں یہ بھول جاتے ہیں کہ نکاح کے بعد لڑکی کو جہاں اپنی مستقل زندگی گزارنی ہے وہ لاڈ پیار کا ماحول نہیں ہوگا بلکہ وہاں زندگی کی حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شادی سے پہلے لڑکی کو یکطرفہ طور پر پیار و محبت مل رہا تھا مگر نکاح کے بعد اس کو جس ماحول میں رہنا ہے وہاں دواور لو (Give and Take)

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page