میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۲۲
کا اصول رائج ہے۔
مگر ماں باپ اپنی لڑکی کے ساتھ یہ ظلم کرتے ہیں کہ زندگی کا یہ راز اس کو نہیں بتاتے اور پھر لڑکی اپنی غیر حقیقت پسندانہ تربیت کے نتیجہ میں مسائل سے دوچار ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری سسرال پر ڈال دی جاتی ہے۔ اس معاملہ میں ماں باپ کو چاہئے کہ وہ خود اس کی ذمہ داری لیں اور لڑکی کو حالات کے مطابق تیار کریں۔
سوالات کے وقفہ کے دوران ایک صاحب نے کچھ انتہا پسند ہندو لیڈروں کا نام لے کر کہا کہ ہندوؤں کے دل میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت ہے پھر اس مسئلہ کا حل کیا ہے۔ ہمارے قافلہ کے ایک صاحب مسٹر رجت ملہوترہ بھی اس موقع پر شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ کو دیکھئے، میں اس سوال کا ایک عملی جواب ہوں۔
میں ایک ہندو فیملی میں پیدا ہوا۔ دو سال پہلے میں ویسا ہی ہندو تھا جیسا کہ آپ نے فرمایا۔ مگر آج میں پوری طرح بدل چکا ہوں۔ آج میرے دل میں اسلام سے اتنا ہی پیار ہے جتنا کسی مسلمان کو ہوسکتا ہے۔ میرے اندر یہ تبدیلی الرسالہ مشن کی وجہ سے آئی۔ میں پچھلے دو سال سے الرسالہ مشن میں شریک ہوں اور باقاعدہ اسلام کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ خدا کے فضل سے وہ تمام نفرتیں اور بدگمانیاں میرے دل سے ختم ہو چکی ہیں جو اس سے پہلے میرے اندر موجود تھیں۔ آپ یہ نہ دیکھئے کہ آدمی آج کیسا ہے بلکہ یہ دیکھئے کہ وہ کل کیسا ہو سکتا ہے۔
مولانا محمد عرفان قاسمی صاحب نے الرسالہ مشن کے بارے میں اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ الرسالہ مشن سمجھنے سے پہلے ہمیں یہ احساس تھا کہ ہم دورِ زوال کی صفِ آخر کے افراد میں سے ہیں۔ لیکن الرسالہ مشن کو سمجھنے کے بعد یہ احساس ہوا کہ ہم تو دورِ عروج کی صفِ اول کے افراد بن سکتے ہیں۔
انہوں نے اپنے تاثرات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ الرسالہ مشن سے مجھے یہ حوصلہ ملا ہے کہ میری زبان سے اکثر یہ جملہ نکل جاتا ہے کہ ہم رجال ونحن رجال۔ یہ سن کر میں نے کہا کہ
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues