Al-Risala · April 2004 · page 23

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۲۳

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے پچھڑے پن کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے مفروضہ بڑوں کے خول میں بند ہیں وہ ان سے آگے سوچ نہیں پاتے۔ اس سوچ نے ان کے اندر ذہنی جمود پیدا کر دیا۔ یہی ذہنی جمود ان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک اس ذہنی جمود کو توڑا نہ جائے اس وقت تک موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی ترقی ممکن نہیں۔

مولانا محمد عرفان قاسمی کی باتوں کو سننے کے بعد میں نے کہا کہ آپ نے الرسالہ مشن کو بخوبی طور پر سمجھا ہے اور یہ میرے نزدیک ایک معجزہ سے کم نہیں۔ میرا تجربہ ہے کہ جو لوگ کسی تعلیمی ادارہ یا کسی جماعتی گروہ کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں ان کے اندر وہ فکری کمزوری پیدا ہوجاتی ہے جس کو ذہنی کنڈیشننگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ 99 فیصد سے زیادہ لوگ اس کنڈیشننگ میں مبتلا ہیں۔ اس لیے ان کا ذہنی ارتقا بھی رکا ہوا ہے۔ آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت ہے کہ آپ مدرسہ کی باقاعدہ تربیت کے باوجود اپنی کنڈیشننگ کو توڑنے میں کامیاب ہوگئے۔ دوپہر کا کھانا ساجد خاں صاحب کے مکان پر تھا۔ یہاں کھانے کے بعد دوبارہ بہت سے لوگ اکٹھا ہوگئے اور ان سے مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ محمد ساجد خاں صاحب کے مکان پر دینی چہل پہل دیکھ کر میں نے کہا کہ یہ گھر تو ایک باغ اسلام معلوم ہوتا ہے۔ معلوم ہوا کہ تقریباً تین سال سے الرسالہ مشن کا ہفتہ وار اجتماع محمد ساجد خاں صاحب کے مکان پر ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کو پھیلانے کا کام بھی یہیں سے چلا یا جار ہا ہے۔

میرٹھ کے سفر میں بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور بہت سے سبق آموز واقعات معلوم ہوئے۔ ماسٹر محمد چاند انصاری (۴۳) ایک مکینک اور ڈیزائنر ہیں۔ وہ اپنے کام کے ماہر ہیں اور دیانت دار بھی۔ چنانچہ کمپنی میں ان کا بہت احترام کیا جاتا ہے۔ وہ یہاں کی ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں سپروائزر ہیں۔ وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ ۵ ستمبر ۲۰۰۳ کو انہوں نے فیکٹری کے مالک پی، سی جین سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ میں کل (۶ ستمبر) کام پر نہیں آؤں گا۔ مسٹر جین انہیں چھٹی دینے پر راضی نہ تھے۔ محمد چاند انصاری صاحب نے جب اصرار کیا تو مسٹر جین نے پوچھا کہ آخرتم

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page