Al-Risala · April 2004 · page 24

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۲۴

کس بات کے لیے کل چھٹی کرنا چاہتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ کل مولانا وحید الدین صاحب میرٹھ آرہے ہیں اور مجھے ان کے پروگرام میں شریک ہونا ہے۔ مسٹر جین نے پوچھا کہ یہ مولانا وحید الدین کون ہیں۔ محمد چاند انصاری صاحب نے کہا کہ آپ ان کو نہیں جانتے۔ یہ وہ شخص ہیں جنہوں نے ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد یہ کہا تھا کہ ایک مسجد کو چھوڑ کر اگر انسانیت بچتی ہو تو ہم کو چاہیے کہ ہم مسجد کو بھلا دیں اور انسانیت کو بچا لیں۔ یہ سن کر مسٹر جین نے کہا کہ پھر تو تم ضرور ان کے پروگرام میں جاؤ۔ ماسٹر محمد چاند انصاری ۱۹۷۹ سے اس ٹیکسٹائل فیکٹری میں کام کر رہے ہیں۔ ۱۹۸۲ میں جب میرٹھ میں فساد ہوا تو چار مہینے تک شہر میں کرفیو لگا رہا اس لیے وہ اپنے کام پر نہ جا سکے۔ جب کرفیو کھلا تو وہ فیکٹری گئے۔ اس وقت فیکٹری کے مالک دھرَم داس جین زندہ تھے۔ انہوں نے چار مہینے کی تنخواہ دینے سے انکار کر دیا۔ اس پر چاند انصاری صاحب نے کہا کہ اگر آپ میری تنخواہ کاٹتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ میں کل سے کام پر نہیں آؤں گا۔ اس کو سننے کے بعد دھرَم داس جین نے انہیں پوری تنخواہ دے دی اور ساتھ ہی اپنے بیٹوں سے یہ وصیت کر دی کہ دیکھو تم لوگ ان کی تنخواہ کبھی نہ کاٹنا۔ چنانچہ اب دھرَم داس جین کا انتقال ہو گیا اور اب ان کی جگہ ان کے بیٹے فیکٹری چلاتے ہیں اور یہ لوگ محمد چاند انصاری صاحب کے ساتھ انتہائی رعایت کا معاملہ کرتے ہیں۔ چاند انصاری صاحب کی مہارت اور دیانت داری پر انہیں اتنا بھروسہ ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہمیشہ نرمی اور فیاضی کا معاملہ کرتے ہیں۔ وہ انہیں کبھی شکایت کا موقع نہیں دیتے۔

میرٹھ شہر دو بڑے حصوں میں بٹا ہوا ہے، میرٹھ سٹی اور میرٹھ کینٹ۔ میرٹھ سٹی کو قدیم شہر کہہ سکتے ہیں اور میرٹھ کینٹ کو جدید شہر۔ میرٹھ سٹی میں ہندو اور مسلم تقریباً برابر کی تعداد میں ہیں۔ لیکن میرٹھ کینٹ میں ہندو حضرات کی تعداد زیادہ ہے اور مسلمان کی تعداد کم۔ دونوں کے درمیان چلتے ہوئے یہ فرق نظر آیا کہ میرٹھ سٹی یا قدیم میرٹھ میں زیادہ تر گھنی آبادی ہے۔ اسی بنا پر وہ مسائل کا مجموعہ ہے۔ اس کے برعکس میرٹھ کینٹ یا جدید میرٹھ کافی کھلا ہوا ہے۔ یہاں کی سڑکیں چوڑی ہیں۔ یہاں سرسبزی بھی کافی دکھائی دیتی ہے۔ میرٹھ شہر کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں اکثر فرقہ وارانہ فساد ہوتا رہتا ہے۔ مگر یہ فساد میرٹھ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page