Al-Risala · April 2004 · page 25

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۲۵

سٹی میں ہوتے ہیں۔ غالباً کوئی فساد اب تک میرٹھ کینٹ میں نہیں ہوا۔

۶ ستمبر ۲۰۰۳ کی شام کو ۵ بجے میرٹھ کینٹ کے علاقے میں ایک پبلک جلسہ ہوا۔ یہ جلسہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ہوٹل مینجمنٹ کے ہال میں تھا۔ اس جلسہ کا انتظام گیان پریشد کی طرف سے کیا گیا تھا جس کے کنوینر ڈاکٹر کے۔ سی گپتا تھے اور اس کے صدر جسٹس نریندر سروپ گپتا ریٹائرڈ جج (الٰہ آباد ہائی کورٹ) تھے۔

اس جلسہ میں شہر کے تعلیم یافتہ ہندو بڑی تعداد میں شریک تھے۔ ایک ہندو نے کہا کہ یہاں شہر کا پورا ایلٹ کلاس موجود ہے۔ اس جلسہ کا واحد مقرر میں ہی تھا۔ پورا ہال بھرا ہوا تھا۔ مجھے تقریر کے لیے جو موضوع دیا گیا وہ تھا’’ اسلام اور آنتک واد‘‘۔ میں نے تقریباً سوا گھنٹے تقریر کی۔ میں نے کہا کہ اسلام کے ساتھ آنتک واد کو جوڑنا ایک کنفیوژن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ حضرات اگر اس حقیقت کو جان لیں کہ اسلام ایک اصولی تعلیم کا نام ہے اور مسلمان وہ لوگ ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اسلام کو ماننے والے ہیں۔ ایسی حالت میں اصل معیار اسلام ہے، نہ کہ مسلمان۔ مسلمانوں کے عمل کو اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں جانچا جائے گا، نہ کہ اسلام کو مسلمانوں کے عمل کی روشنی میں۔ اس کے بعد میں نے قرآن وحدیث اور سیرت رسول کی روشنی میں بتایا کہ اسلام امن اور محبت اور خیرخواہی اور انسانیت اور اخلاق اور روحانیت کا مذہب ہے۔ جہاں تک قتال یا جنگ کا تعلق ہے، وہ اسلام میں صرف دفاع کے لیے ہے۔ جارحیت کے خلاف دفاع کے سوا کسی اور مقصد کے تحت لڑائی اسلام میں جائز نہیں۔

مزید یہ کہ دفاعی جنگ کی بھی بہت سی لازمی شرطیں ہیں۔ مثلاً دفاعی جنگ بھی باقاعدہ طور پر قائم شدہ حکومت لڑ سکتی ہے۔ کسی غیر حکومتی تنظیم کے لیے جنگ لڑنا کسی بھی حال میں جائز نہیں۔ غیر حکومتی افراد کو اگر کوئی شکایت ہے تو ان کے لیے صرف دو رویوں میں سے ایک رویہ کا انتخاب ہے۔ یا تو وہ صبر کریں یا مکمل طور پر پر امن رہتے ہوئے اپنے مطلوب کے لیے کوشش کریں۔ میری تقریر کے خاتمہ پر کچھ لوگوں نے سوالات کئے جن کا جواب میں نے مختصر طور پر دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page