Al-Risala · April 2004 · page 26

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۲۶

یہ سوالات زیادہ تر منفی ذہن کی نمائندگی کرتے تھے۔ مگر قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اسٹیج پر جو دو ممتاز ہندو صاحبان تھے انہوں نے مکمل طور پر میری تقریر کی تائید کی۔ صدرِ جلسہ جسٹس نریندر سروپ گپتا نے میری تائید کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ مسلم ٹرسٹ کی بات کرتے ہیں۔ میں جج کی حیثیت سے ساری عمر کریمنل کیس کرتا رہا ہوں ۔ خاص طور پر وہ کیس جن کو ٹرسٹ ریلیٹیڈ کیس (terrorist related cases) کہا جاتا ہے۔ میں اپنے ذاتی تجربہ کی بنا پر کہتا ہوں کہ ان ماخوذ لوگوں میں اکثریت ہندو لوگوں کی ہوتی تھی۔ جسٹس گپتا نے جج کی حیثیت سے میرے خیالات کی تائید کی۔ اسی طرح کنوییز ڈاکٹر کے۔ سی گپتا نے اپنی تقریر میں مکمل طور پر میرے خیالات کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگوں کو سنی سنائی باتوں پر یقین نہیں کرنا چاہئے۔ باقاعدہ مطالعہ کرنے کے بعد اپنی رائے بنانی چاہئے ۔

کئی لوگوں نے بتایا کہ ہندو سامعین کی اکثریت میری تقریر کے وقت سر ہلا ہلا کر اس کی تائید کر رہی تھی۔ یہاں تک کہ خطاب کے بعد جب چند افراد نے منفی انداز میں سوالات کئے تو سامعین کی طرف سے ان کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ کئی ہندو یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ مولا نا صاحب ، ہمارے سوالات کے جوابات پہلے ہی دے چکے تو پھر تم دوبارہ وہی بات کیوں پوچھتے ہو، وغیرہ ۔ ۶ ستمبر کی رات کا کھانا محمد ساجد صاحب کے مکان پر تھا۔ کھانے کے بعد دوبارہ کئی ہندو اور مسلمان ہماری قیام گاہ پر اکٹھا ہو گئے۔ ان سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ۶ ستمبر کی شام کے کھانے میں مسلمانوں کے ساتھ کئی ہندو بھی شریک تھے۔ ایک صاحب نے کہا کہ یہ علامتی طور پر گویا مستقبل کے ہندوستان کی ایک تصویر ہے۔ یعنی وہ ہندوستان جب کہ مسلمان اور ہندو دونوں بھائی بھائی کی طرح مل کر رہیں گے۔ وہ ایک ساتھ بیٹھیں گے اور ایک ساتھ کھانا کھائیں گے۔

جب ایسا ہوگا تو یہ صرف سماجی معنوں میں میل ملاپ کا واقعہ نہ ہوگا بلکہ وہ ایک ایسا انٹریکشن ہوگا جو فطری انداز میں دین حق کے تعارف کا ذریعہ بن جائے گا۔

اسلامی تاریخ کے مطالعہ سے میں نے پایا ہے کہ اسلام کا سب سے زیادہ تعارف جس ذریعہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page