میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۲۷
سے ہوا وہ نارمل ماحول میں انٹریکشن یا باہمی اختلاط سے ہوا۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کا اختلاط جب بھی ہوا وہ اسلام کے تعارف کا باعث بنا۔ ہمارے مشن کا خاص مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کھلے ماحول میں پرامن ڈائیلاگ ہونے لگے۔
۶ ستمبر کی شام کو خطاب کے بعد دو مختلف واقعات پیش آئے۔ ایک یہ کہ سامعین میں سے ایک ہندو نے کہا کہ آج آپ کو سن کر پیغمبر صاحب کے بارے میں بہت کچھ جانکاری ہوئی۔ اس کے برعکس ایک زیادہ عمر کے مسلمان میرے پاس آئے اور انہوں نے میرے کان میں کہا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کا نام ہی نہیں لیا۔
میں نے سوچا کہ ایک ہی تقریر کے بارے میں دو بالکل مختلف رائے کیوں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ میں نے اپنی تقریر میں بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے دئے اور حدیثیں سنائیں جس کا اعتراف مذکورہ ہندو نے کیا۔ پھر مسلمان نے ایسا کیوں کہا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو نام ہی نہیں لیا۔ اس پر سوچتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ مسلم مقررین نے ایک خود ساختہ روایت قائم کی ہے جس کی وجہ سے یہ مسئلہ پیش آیا۔
ہمارے مقررین جب اسٹیج پر آتے ہیں تو وہ ایسا کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لینے سے پہلے بہت سارے القاب و آداب شامل کرتے ہیں۔ مثلاً آقائے مدنی، سرور کائنات، محبوب خدا، سرکار دو عالم، شہنشاہ کونین، وغیرہ۔ حالاں کہ صحابہ اور تابعین اور عہد اوّل کے علماء کا طریقہ ایسا نہ تھا۔ میں اللہ کے فضل سے ہر معاملہ میں قرآن وسنت اور صحابہ اور تابعین کے مسلک کی پیروی کرتا ہوں ۔ میرا معیار وہ دور ہوتا ہے جس کو قرون مشہود لہا بالخیر کہا گیا ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لیے یہ طریقہ اجنبی بن گیا ہے۔ وہ صرف آج کل کے مقررین کے مصنوعی طریقوں ہی سے مانوس ہیں، وہ میرے انداز کو سمجھ نہ سکے۔ شاید یہ بھی اس معاملہ کا ایک پہلو ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ ”بدأ الاسلام غريباً و سيعود كما بدأً“۔
اس حدیث میں یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ بعد کے زمانہ میں اسلام اجنبی ہو جائے گا۔ غالباً
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues