Al-Risala · April 2004 · page 28

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۲۸

اجنبی ہونے کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ لوگ دورِ اول کے اسلوب سے غیر مانوس ہو جائیں، وہ اس اہمیت کو سمجھنے سے عاجز رہیں۔

۶ ستمبر کی شام کو جب ہم لوگ میرٹھ کینٹ کی ایک سڑک سے گزر رہے تھے تو وہاں ایک جگہ چورا ہے پر ایک ٹینک رکھا ہوا نظر آیا۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ ایک پاکستانی ٹینک ہے۔ 1965 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان جو لڑائی ہوئی تھی اس میں یہ ٹینک پکڑا گیا تھا اور اس کو یہاں لا کر رکھا گیا۔ اس ٹینک کے اوپر اردو میں موٹے حرفوں میں یہ لکھا ہوا تھا، شانِ خیبر، ۷۹۱۹۶۔ ڈاکٹر کرشن کمار گپتا (٦٦) سے ملاقات ہوئی۔ وہ آج کل اردو سیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے ملاقات میں کئی باتیں بتائیں۔ میری ایک کتاب کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس میں میں نے ایک حدیث پڑھی ہے جس سے مجھے جھوٹ کی ایک نئی قسم معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی کوئی بات سنے اور تحقیق کے بغیر اس کو پھیلانے لگے۔ اس حدیث کے عربی الفاظ یہ ہیں: کفی بالمرء کذباً ان يحدث بكل ما سمع۔

۷ ستمبر ۲۰۰۳ کی صبح کو ایک صاحب ہندی مقامی اخبارات لے آئے۔ اُن میں کل شام کے پروگرام کی رپورٹنگ تھی ۔ ہندی روز نامہ امر اجالا نے صفحہ ۶ پر تقریر کی تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ کا عنوان یہ تھا کہ’’ مولانا وحید الدین خود بھی روئے اور لوگوں کو بھی رلایا‘‘۔ ۷ ستمبر کی صبح کو میری قیام گاہ پر کچھ مسلمان بیٹھے ہوئے تھے۔ اس موقع پر ان بعض ہندوؤں کا ذکر ہوا جنہوں نے کل شام کے جلسے میں کچھ ٹیڑھے قسم کے سوالات کئے تھے۔ ایک صاحب نے کہا کہ جلسہ کے بعد میری ملاقات اسی قسم کے ایک ہندو سے ہوئی ۔ یہ ہندو کل شام کے جلسہ میں بظاہر بہت معاندانہ انداز میں بول رہا تھا۔ مگر جلسہ کے بعد وہ آپ کے سامنے آیا اور آپ کو پرنام کیا۔ پھر میں اُس سے ملا تو اُس نے مجھ سے نارمل انداز میں بات کی۔ یہ قصہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کا یہ مزاج ہوتا ہے کہ وہ جب کسی میٹنگ میں آتے ہیں تو صرف بولنے کے لیے بولتے ہیں، ورنہ ان کے دل کے اندر کچھ بھی نہیں رہتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page