Al-Risala · April 2004 · page 29

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۲۹

اس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس قسم کے افراد کے دل میں شکایت کا لاوا بھرا ہوا ہے۔ ان کو ایک ایسا موقع مل جاتا ہے جہاں وہ اپنے لاوے کو باہر لا سکتے ہیں۔ اس طرح یہ ہوتا ہے کہ ان کے دل کی بھڑاس نکل جاتی ہے۔

مولانا محمد عرفان قاسمی (۴۲) دار العلوم دیوبند سے فارغ ہونے کے بعد میرٹھ میں مقیم ہوگئے ۔ وہ ۱۹۸۰ء سے الرسالہ کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ ان کی رہنمائی میں یہاں ہفتہ وار درس بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ الرسالہ فکر کو سمجھنے سے پہلے ہمارا خیال تھا کہ ہم تاریخ کے صرف معمول ہیں۔ لیکن الرسالہ فکر کو سمجھنے کے بعد احساس ہوا کہ ہم تاریخ ساز کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ۷ ستمبر کی صبح کو ڈاکٹر کے۔ سی گپتا کی رہائش گاہ (میرٹھ کینٹ) پر ایک اجتماع ہوا۔ جس میں تعلیم یافتہ حضرات شریک ہوئے ۔ جسٹس نریندر سروپ گپتا بھی اس میں موجود تھے، کچھ ریٹائرڈ فوجی بھی شریک تھے۔ یہاں مختلف موضوعات پر اظہار خیال ہوا۔ لوگوں کے سوال پر الرسالہ مشن کا تعارف کرایا۔ میں نے کہا کہ ہمارا مشن خاص طور پر امن اور اتحاد کا ماحول قائم کرنا ہے۔ امن کے ماحول کے بغیر کوئی بھی کام نہیں کیا جا سکتا، نہ مذہبی اور نہ غیر مذہبی۔

ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ہمارے ملک میں جو کمیاں ہیں ان سب کی جڑ ایجوکیشن کی کمی ہے۔ صحیح ایجوکیشن آدمی کے ذہن کو بیدار کرتی ہے۔ وہ آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ باتوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھے اور درست رائے قائم کرے۔

اس سفر میں میرٹھ کا بازار دیکھنے کا موقع ملا۔ سب سے پہلے ہم لوگ موڈرن فوٹو اسٹوڈیو میں گئے جس کے مالک مسٹر پرویز عالم ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تصویر حرام ہے۔ آپ بتائیے کہ اس کا مسئلہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام میں صرف دو چیزیں حرام ہیں—خدا سے نڈر ہو جانا اور انسان سے نفرت کرنا۔ آپ صرف یہ کیجئے کہ ان دو پہلو سے اپنے دل کو ٹولتے رہیے کہ یہ دو باتیں آپ کے دل میں ہیں یا نہیں۔ اگر آپ پائیں کہ آپ ان دو معیاروں پر پورے اتر رہے ہیں تو آپ کا معاملہ درست ہے اور اگر آپ اس معاملے میں پورے نہ اتر رہے ہوں تو

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page