Al-Risala · April 2004 · page 30

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۳۰

آپ کا معاملہ درست نہیں ہے۔

اس کے بعد ہم لوگ جناب محمد ساجد خاں صاحب کی دکان پر گئے جس کا نام ہائی وے ٹیلرس ہے۔ یہ ایک خوبصورت دکان تھی جو یہاں کے مین روڈ پر واقع ہے۔ مارکیٹ کے کچھ ہندو تاجر بھی میرے آنے کی خبر سن کر یہاں آگئے۔ اُن میں سے تین کے نام یہ ہیں، نریندر باش جین، امت، پنکی جین۔ یہ تینوں کپڑے کے تاجر ہیں۔ یہاں میں نے مختصر طور پر بتایا کہ اسلام کیا ہے۔ اسلام کا مطلب لڑائی بھڑائی نہیں ہے بلکہ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ آدمی لوگوں کے درمیان امن اور اتحاد کے ساتھ زندگی گزارے۔

یہاں سے واپس ہو کر ہم لوگ محمد ساجد صاحب کے مکان پر پہنچے۔ یہاں دوبارہ کافی لوگ اکٹھا ہوگئے اور ان سے باتیں ہوتی رہیں۔ جناب شہزاد علی صاحب الرسالہ کے قاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الرسالہ کے مطالعہ سے اُس کا خلاصہ میں نے یہ سمجھا ہے کہ مخلوق سے ہجرت کر کے خالق تک پہنچنا۔ ۷ ستمبر کی شام کو چار بجے محمد ساجد خاں صاحب کے مکان پر ایک اجتماع ہوا۔ اس موقع پر مختصر انداز میں اسلامی تعلیمات کی وضاحت کی۔

ماسٹر نفیس احمد انصاری الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انہوں نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب کا میرٹھ کا دو روزہ دورہ اپنے مقصد میں ہر اعتبار سے کامیاب رہا۔ ایم ساجد انصاری بھی الرسالہ کے قاری ہیں۔ انہوں نے اپنا احساس بتایا کہ آپ کے دورہ سے پہلے میرا خیال تھا کہ میرٹھ میں ہمارا یہ دعوت کا کام آہستہ آہستہ ہو رہا ہے۔ لیکن آپ کے آنے کے بعد یہ محسوس ہوا کہ انشاء اللہ اب یہ کام بہت تیز رفتار ہوگا۔

ایک بار کھانے کے وقت ایک صاحب نے کھانے کے ٹیسٹ کے بارے میں کوئی بات کہی۔ میں نے کہا کہ ہر سال روزہ کا تجربہ اہل ایمان کو اس لیے کرایا جاتا ہے کہ وہ یہ جانیں کہ کھانے کی اصل لذت مسالہ جیسی چیزوں میں نہیں ہے بلکہ اس میں ہے کہ آدمی کو بھوک کا تجربہ ہو اور پھر وہ کھانا کھائے اور پانی پئے ۔ اسی حقیقت کو بنجمن فرینکلن (Benjamin Franklin) نے ان الفاظ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page