The best sauce in the world is hunger.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۳۱
میں بیان کیا ہے دنیا میں سب سے اچھی چٹنی بھوک ہے:
The best sauce in the world is hunger.
۶ ستمبر ۲۰۰۳ کے ٹائمس آف انڈیا میں پہلے صفحہ پر ایک مغربی لیڈر ول راجرس (Will Rogers) کا قول چھپا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم نے سچائی کو سیاست میں داخل کیا تو تم کبھی کامیاب سیاست داں نہ بن سکو گے:
If you ever injected the truth into politics, you would have no politics. سیاست کے بارہ میں اس قسم کا تصور ہمیشہ سے لوگوں کے اندر موجود تھا لیکن اس کو ایک باقاعدہ نظریہ کے طور پر جدید مغرب میں پیش کیا گیا اور اب ساری دنیا میں یہ حال ہے کہ جو آدمی سیاست میں داخل ہوتا ہے وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی نظریہ کو اختیار کر لیتا ہے۔ اس معاملہ میں سب سے زیادہ افسوس ناک مثال ان لوگوں کی ہے جو اسلام پسند سیاست داں کہے جاتے ہیں۔ انہوں نے بھی اپنی نام نہاد اسلامی سیاست کو اسی انداز پر چلا رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی اسلامی سیاست ساری دنیا میں عملاً اسلام کے نام پر تخریب کاری کے ہم معنی بن گئی ہے۔
۶ ستمبر ۲۰۰۳ کے ٹائمس آف انڈیا کے صفحہ ۴ پر دہلی کے بارے میں ایک خبر تھی ۔ اس کا عنوان یہ تھا۔ اب دہلی میں پیدل چلنے والوں کے لیے صاف اور ہرے بھرے راستے: Now, clean, green walkways for city. میں دہلی میں ۱۹۷۷ سے رہتا ہوں۔ اس وقت سے اب تک برابر یہ منظر دکھائی دیتا رہا ہے کہ فٹ پاتھ کو توڑ پھوڑ کر اس کو پختہ بنانا۔ پہلے فٹ پاتھ کو اینٹ کے ذریعہ پختہ کیا گیا پھر اُس کو توڑ کر فٹ پاتھ پر پتھر لگائے گئے۔ پھر اس کو توڑ کر ٹائل لگائی گئی۔ پھر سیمنٹ کنکریٹ (concretisation) کا نظریہ اختیار کیا گیا۔ اب خبر کے مطابق، ڈی کنکریٹ (de-concretisation) کا طریقہ اختیار کیا جانے والا ہے۔
اصل یہ ہے کہ فٹ پاتھ کو مکمل طور پر پختہ کرنے کے بعد یہ نقصان ہوا کہ بارش کا پانی جو پہلے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues