Al-Risala · April 2004 · page 32

The best sauce in the world is hunger.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۳۲

زمین کے نیچے چلا جاتا تھا وہ سطح کے اوپر سے بہہ کر باہر جانے لگا۔ اس طرح بارش کے پانی کا دوبارہ استعمال بہت کم ہو گیا۔ اب ہمارے افسران نے یہ طے کیا ہے کہ موجودہ پختہ فٹ پاتھ کو توڑ کر وہاں نئے قسم کے ٹائل لگائے جائیں۔ ان ٹائلوں میں ایک طرف سوراخ رکھا جائے جس سے بارش کا پانی اندر داخل ہو سکے اور دوسری طرف ٹائلوں کے درمیان خالی جگہ چھوڑ کر وہاں گھاس اگائی جائے۔ اس طرح فٹ پاتھ بیک وقت بارش کے پانی کو بہہ جانے سے بچائے گا اور اسی کے ساتھ فٹ پاتھ پر سرسبز مناظر بھی دکھائی دینے لگیں گے۔ یہ طریقہ وہی ہے جس کو فرانس کے شہر لیان (Lyon) میں مختلف تجربات کے بعد آخر میں اختیار کیا گیا ہے۔

میں نے کہا کہ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کی منصوبہ بندی کتنی ناقص ہے۔ اس کے برعکس خالق کی منصوبہ بندی کائنات میں اتنی مکمل ہے کہ ایک بار بنانے کے بعد خالق کو یہ ضرورت پیش نہیں آئی کہ وہ کائنات کی از سر نو منصوبہ بندی کرے: فتبارك الله احسن الخالقين (المؤمنون (۱۴)

۶ ستمبر کے ٹائمس آف انڈیا میں ایک خبر ہندی روزنامہ دینک بھاسکر کے بارے میں تھی۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت آٹھ ریاستوں میں دینک بھاسکر کے اکیس ایڈیشن نکلتے ہیں۔ ہر دن اس کی جو تعداد چھپ کر فروخت ہوتی ہے وہ مجموعی طور پر ۲۲ لاکھ ہے۔

میں نے کہا کہ مسلمان ہر معاملہ میں دوسروں کی شکایت کرتے ہیں، حالانکہ انہیں اپنی کوتاہیوں کو جان کر اس کو درست کرنا چاہئے۔ موجودہ زمانہ میں اخبار بہت بڑی طاقت مانا جاتا ہے۔ مگر ہندوستان میں مسلمانوں کا کوئی ایک بھی ایسا اخبار نہیں جس کی روزانہ اشاعت اتنی زیادہ ہو۔ ایسے حالات میں اگر اس ملک میں مسلمانوں کا کیس ایک کمزور کیس بن جائے تو اس کی شکایت انہیں اپنے آپ سے کرنا چاہیے، نہ کہ دوسروں سے۔

۷ ستمبر ۲۰۰۳ کے ٹائمس آف انڈیا کا ایڈیٹوریل اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون (Ariel Sharon) کے دورۂ ہند کے بارہ میں تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل کا کوئی وزیر اعظم انڈیا

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page