Al-Risala · April 2004 · page 33

The best sauce in the world is hunger.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۳۳

کے سرکاری دورہ پر آ رہا ہے۔ اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے اخبار نے لکھا تھا کہ ہم دنیا کو یہ بتا سکتے ہیں کہ فلسطینیوں کی تحریک اپنے اسٹیٹ کے اقدام کے لیے ہے جس کی جڑیں خود اختیاری کے مسلمہ اصول میں ہیں جب کہ اسرائیل کی کارروائیاں یہودی ریاست کی توسیع کے اصول پر مبنی ہیں : We could tell the world that Palestinion aspirations for a state of their own were rooted in the Principle of self-determination while Israeli actions testified to the Jewish state's vile, self-aggrandising ambitions. یہ بات بالکل درست ہے۔ اس کے باوجود فلسطینیوں کی تحریک ناکام کیوں ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے۔ صحیح مقصد کے لیے غلط طریقہ اختیار کرنا۔ فلسطینیوں کے لیے لازم تھا کہ وہ اپنی تحریک کو پوری طرح پُر امن طریق کار کے اصول پر چلائیں۔ مگر یہ عرب لیڈروں کی سنگین غلطی تھی کہ انہوں نے فلسطینی تحریک کو تشدد کی بنیاد پر چلایا۔

یہ غلطی اتنی عام ہوئی کہ ساری دنیا کے علماء اور رہنما اس معاملہ میں عربوں کے مسلح موقف کے حامی بن گئے۔ مسلم دنیا میں میں اکیلا تھا جس نے اس پالیسی کو غلط بتایا۔ میرے علم کے مطابق، کوئی بھی دوسرا عالم یا غیر عالم اس معاملہ میں فلسطینیوں سے یہ نہ کہہ سکا کہ تم اپنی تحریک کو پرُ امن دائرہ میں رہ کر چلاؤ۔ اب تشدد کے جواب میں جب فریق ثانی کی طرف سے جوابی تشدد کا معاملہ پیش آ رہا ہے تو یہ تمام لوگ ظلم اور سازش کی فریاد کر رہے ہیں۔

ایک مسلمان بزرگ نے اپنے یہاں کھانے پر بلایا۔ میں اور میرے ساتھی وہاں پہنچے تو ایک بڑے کمرہ میں دستر خوان بچھا ہوا تھا۔ میں نے تاکید کی تھی کہ کھانا بالکل سادہ ہونا چاہیے۔ مذکورہ بزرگ نے اس کی رعایت کی۔ مگر جب ہم لوگ کھانا کھا چکے تو ’’سویٹ ڈش‘‘ لائی گئی۔ یہ نہایت خوشبودار کھیر تھی ۔ میں نے صاحب خانہ سے کہا کہ مسلمان ابھی تک کھانے کے اصول کو نہیں جانتے۔ وہ صرف لذیذ کھانے کو کھانا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ کھانے کا اصل مقصد تغذیہ (nutrition) ہے، یعنی متوازن خوراک لینا۔ میں نے کہا کہ آپ کے گھر کی خواتین نے کئی گھنٹہ کی محنت کے بعد یہ کھیر تیار کی ہوگی۔ مگر

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page