The best sauce in the world is hunger.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۳۴
غذائی اعتبار سے اس کا فائدہ بہت کم ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے یہاں کے بازار میں دیکھا کہ لوگ جگہ جگہ تازہ امرود بیچ رہے ہیں۔ آپ کے لیے زیادہ اچھا یہ تھا کہ آپ مہنگی کھیر کے بجائے یہ سستے امرود بازار سے لاتے اور اس کو خود بھی کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے۔ مگر بدقسمتی سے مسلمان بریانی اور مرغا کو کھانا سمجھتے ہیں۔ کھانے کے سائنٹفک تصور سے وہ ابھی تک واقف نہیں۔ جس دن مجھے میرٹھ جانا تھا اس سے صرف ایک دن پہلے میری ایک تازہ کتاب چھپ کر آئی۔ اُس کا موضوع مذہب پر عقلی استدلال ہے۔ وہ ۴۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ اُس کا نام یہ ہے: In Search of God میرے ساتھیوں نے اس کتاب کے کچھ نسخے اپنے پاس رکھ لیے تھے۔ میرٹھ میں انہوں نے اس کتاب کو اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں تقسیم کیا۔ کتاب کے ٹائٹل پر ایک مفکر کے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے_ علم کی کمی آدمی کو خدا سے دور کر دیتی ہے، زیادہ علم آدمی کو خدا کی طرف واپس لاتا ہے: A smattering of knowledge turns people away from God. Greater knowledge brings back to Him. ۶ ستمبر کی شام کو پروگرام کے خاتمہ پر جب میں ہال سے باہر نکلنے لگا تو ایک صاحب نے اپنی ایک تحریر مجھے دی۔ اس تحریر کے نیچے محمد علی زیدی کا نام درج تھا۔ اس میں کچھ سوالات درج تھے مگر سب کے سب غیر واضح تھے۔ ایک سوال اُن کے اپنے الفاظ میں یہ تھا: شاہ بانو کیس شریعت کی تشریح کا معاملہ تھا_ تھا—اجودھیا میں بابری مسجد کا کیس حق ملکیت سے شروع ہوا ہے۔
سوچنے کا یہ طریقہ میرے نزدیک غیر منصفانہ ہے۔ ایک مسلمان کو اگر یہ کہنے کا حق ہے کہ اجودھیا کا معاملہ مسلمان کے لیے شریعت کا معاملہ ہے اور ہندو کے لیے وہ آستھا کا معاملہ ہے۔ اگر کوئی مسلمان ایسا کہے تو اُس کو یہی حق ہندو کو بھی دینا ہوگا۔ اس منطق کے مطابق، ہندو یہ کہیں گے کہ اجودھیا کا معاملہ ہمارے لیے عقیدہ کا معاملہ ہے اور مسلمانوں کے لیے وہ بے جا قبضہ کا معاملہ_ اس طرح کی باتوں سے اجودھیا کا مسئلہ کبھی حل ہونے والا نہیں۔ اُس کے حل کی صورت صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ اس معاملہ کو بلا شرط عدالت کے حوالہ کر دیا جائے_
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues