Al-Risala · April 2004 · page 35

The best sauce in the world is hunger.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۳۵

۷ ستمبر ۲۰۰۳ کی دوپہر کو پریس کانفرنس تھی۔ یہ کانفرنس پیس اینڈ پراگرس (P.P) ہال میں ہوئی ۔ اس میں پریس کے لوگوں کے علاوہ اور بہت سے لوگ آگئے ۔ آگئے۔ اکثر سیٹیں بھری ہوئی نظر آئیں ۔ میڈیا کی طرف سے حسب ذیل نمائندوں نے شرکت کی :

سنجیو امر اجالا Tel.: 9412204147 ارشد محمد دینک جاگرن کمال بھارگو سہارا سمے راج کمار دینک کیسر خوشبو و جے مان انا ڈوٹی وی عمومی خطاب کے موقع پر میڈیا کے اکثر نمائندے موجود تھے اور اس کی رپورٹ میڈیا میں تفصیل کے ساتھ آچکی تھی ۔ اس وقت کی پریس کانفرنس میں زیادہ تر اسی کے پس منظر میں سوالات اور جوابات ہوئے ۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ آج کل زیادہ تر یہ ہو رہا ہے کہ مسلمان لکھنے اور بولنے والے ہندوؤں کو نصیحت کر رہے ہیں اور ہندو لکھنے اور بولنے والے مسلمانوں کو نصیحت کر رہے ہیں۔ اس کا عملی طور پر کوئی فائدہ نہیں۔ اس قسم کا عمل کسی کو اپنی کمیونٹی میں مقبولیت دے سکتا ہے مگر صورت حال کی اصلاح کے اعتبار سے اُس کا کوئی فائدہ نہیں۔

اصلاح کے پہلو سے مفید طریقہ یہ ہے کہ ہندو لوگ ہندوؤں کو نصیحت کریں اور مسلمان حضرات مسلمانوں کو نصیحت کریں۔ لوگ عام طور پر ایسا نہیں کرتے ۔ کیوں کہ ایسا کرنے میں اُنہیں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی میں مقبولیت کھودیں گے ۔ مگر یہ ایک فرضی اندیشہ ہے۔ لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس فرضی اندیشہ سے باہر آئیں اور اپنی اپنی کمیونٹی پر امر بالمعروف، نہی عن المنکر کا عمل جاری کریں۔ اس کے بغیر حالات میں سُدھارلانا ممکن نہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اجودھیا کے مسئلہ پر کئی ہندو اور مسلمان پرجوش طور پر اپنی اپنی رائے پیش کرتے رہتے ہیں۔ میرے نزدیک اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page