The best sauce in the world is hunger.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۳۶
دونوں ہی طرف کے لوگوں کو صرف ایک بات کہنا چاہئے۔ اور وہ یہ کہ اس معاملہ میں 1991 کے ایکٹ کو نافذ کیا جائے اور اُس کے مطابق، عدالت کا فیصلہ جلد سے جلد حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ عدالت جو فیصلہ دے، دونوں فریق کسی شرط کے بغیر اُس کو مان لیں۔ اس معاملہ میں اس کے سوا کوئی اور بات قابلِ عمل نہیں۔
ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ہمارا مقصد خاص طور پر یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان امن قائم ہو جائے۔ امن یکساں طور پر دونوں ہی کی ضرورت ہے۔ امن کے بغیر دونوں میں سے کوئی بھی ترقی نہیں کر سکتا۔
ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ یکساں سول کوڈ کا نظریہ سراسر غیر عملی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یکساں سول کوڈ کا قانون بہت پہلے ہمارے یہاں بن چکا ہے۔ مگر یہ قانون عملاً نافذ نہ ہوسکا۔ پھر ایک اور قانون بنانے سے کیا فائدہ۔
میں نے کہا کہ اس سے پہلے پارلیمنٹ نے سول میرج ایکٹ بنایا تھا۔ سول میرج ایکٹ عملی طور پر تقریباً وہی چیز ہے جس کو کامن سول کوڈ کہا جاتا ہے۔ کامن سول کوڈ کا جو مدعا ہے وہ پوری طرح سول میرج ایکٹ میں موجود ہے۔ اب صرف اتنی بات باقی ہے کہ سول میرج کا طریقہ جو موجودہ قانون میں اختیاری ہے، اس کو قانونی طور پر لازم کر دیا جائے۔ مگر ایسا قانون کبھی چلنے والا نہیں۔ کسی قانون کے تحت اگر سول میرج کو لازمی قرار دے دیا جائے تو اُس کے بعد یہ ہوگا کہ کوئی فرد یا کوئی تنظیم سپریم کورٹ میں اُس کے خلاف مرافعہ کرے گی۔ کیوں کہ ایسا قانون دستور کی دی ہوئی مذہبی آزادی میں کھلی مداخلت ہوگی۔ وہ دستورِ ہند کی خلاف ورزی کے ہم معنی ہوگا۔ ایسی حالت میں یقینی طور پر یہ ہوگا کہ سپریم کورٹ ایسے قانون کو رد کر دے گی۔ اس طرح مسئلہ جہاں اب ہے وہیں وہ قانون کے بعد بھی باقی رہے گا۔
میرٹھ شہر دہلی کے شمال مشرقی حصہ میں واقع ہے۔ میرٹھ کا پورا ضلع نہایت زرخیز ہے۔ اس کا ایک سبب غالباً یہ ہے کہ میرٹھ ضلع دو بڑی ندیوں ، گنگا اور جمنا کے درمیان واقع ہے۔ میرٹھ میں پہلا
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues