Al-Risala · April 2004 · page 37

The best sauce in the world is hunger.

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۳۷

کالج ۱۸۹۲ء میں بنایا گیا۔ میرٹھ یونیورسٹی ۱۹۶۵ میں بنائی گئی۔

۱۸۵۷ میں انگریزوں کے خلاف جو بغاوت ہوئی وہ میرٹھ شہر سے شروع ہوئی تھی۔ یہ بغاوت کرنے والے زیادہ تر معمولی تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ اُن کو یہ پتہ نہیں تھا کہ اس وقت ملک میں ایک ایسا انقلاب آچکا ہے جو مغل سلطنت کے زمانہ میں موجود نہ تھا۔ یعنی ٹیلی گراف کے ذریعہ کمیونیکیشن۔ مورخین نے لکھا ہے کہ ۱۸۵۷ کی بغاوت کو بہت جلد فرو کرنے میں انگریزوں کو جس چیز سے سب سے زیادہ مدد ملی وہ یہی کمیونیکیشن کا نیا نظام تھا۔ چنانچہ انگریزوں نے اپنے مختلف مراکز کو فوری طور پر پیغام بھیج کر ہر جگہ سے فوجی مدد حاصل کر لی اور اس طرح بغاوت کو تیزی سے دبا دینے میں وہ کامیاب ہو گئے۔ ایک صاحب نے ایک کتاب کا ذکر کیا اور اُس پر میری رائے پوچھی۔ اس کتاب کا عجیب وغریب نام ادراک زوالِ امت ہے۔ اس کتاب کی پہلی جلد ۵۳۳ صفحات پر مشتمل ہے اور وہ ۲۰۰۳ میں نئی دہلی سے چھپی ہے۔ یہ کتاب کا غذ، چھپوائی، جلد بندی، وغیرہ ہر پہلو سے وقت کی اعلیٰ ترین معیار پر تیار کی گئی ہے۔ میں نے جب اُس کو دیکھا تو میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ جو امت اتنی شاندار کتاب چھپا سکتی ہو اس کے بارہ میں لکھی جانے والی کتاب کا نام ادراکِ عروج امت ہونا چاہئے، نہ کہ ادراکِ زوالِ امت۔

اس ضخیم کتاب میں امت مسلمہ کے بارہ میں جو باتیں کہی گئی ہیں اُن کا خلاصہ کتاب کے آغاز میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:

’’خیر امت کی خواب آسا فضا میں جینے والی ملت کے لیے یہ سمجھنا انتہائی مشکل ہے کہ آخر اس کے ہاتھوں سے تاریخ کی لگام کیوں کرپھسلتی گئی ہے۔ چودہ صدیوں پر مشتمل ہماری ملی تاریخ میں ایسے حوادث کی کمی نہیں جن سے مختلف اوقات میں ہمارے نہ تھمنے والے زوال کی بار بار تصدیق ہوتی رہی ہو۔ فتنۂ قتل عثمان ہو یا جمل اور صفین کی خانہ جنگیاں، بغداد اور غرناطہ کا سقوط ہو یا مغل دہلی اور خلافت عثمانی کی تباہی، یہ ہماری تاریخ کے وہ لمحات ہیں جب من حيث القوم ہمارا وجود اپنے زوال کی سرعت اور شدت کے سلسلہ میں ششدر رہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page