Al-Risala · April 2004 · page 38

گفتگو اور اظہار خیال

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۳۸

گیا تھا۔ ہم ابھی ایک حادثے کی ماہیت اور شدت کا پوری طرح ادراک بھی نہ کر پائے تھے کہ پے در پے دوسرے حوادث پیش آتے گئے ۔ یہاں تک کہ تاریخ کو کبھی اپنی مٹھی میں رکھنے والی امت خود تاریخ بن کر رہ گئی ۔

مصنف نے جس تاریخی ظاہر ہ کے بارے میں لکھا ہے کہ اُس کو سمجھنا مشکل ہے، اُس کا جواب قرآن میں بہت پہلے ان الفاظ میں دے دیا گیا ہے : تلك الايام نداولها بين الناس ( آل عمران ۱۴۰ ) اس کے مطابق ، سیاسی اقتدار کسی قوم کی ابدی ملکیت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی اقتدار صرف امتحان کا ایک پر چہ ہے اور خدائی قانون کے مطابق ، وہ بدلتا رہتا ہے ۔ وہ کبھی ایک قوم کو ملتا ہے اور کبھی دوسری قوم کو ۔ سیاسی اقتدار ابدی طور پر کسی ایک قوم کے پاس رہنا خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف ہے اور جو چیز خدا کے تخلیقی منصوبہ کے خلاف ہو وہ اس دنیا میں کبھی وقوع میں آنے والی ہی نہیں۔

گفتگو اور اظہار خیال

۱۔ فجر کی نماز کے بعد میں نے لوگوں کے سامنے یہ حدیث پڑھی: من صلّى الصبح فهو فى ذمة الله ۔ (جس نے صبح کی نماز پڑھی وہ اللہ کی ذمہ داری میں آگیا) میں نے کہا کہ اس حدیث میں نماز اور اللہ کے ذمہ کے درمیان جس تعلق کا ذکر ہے وہ کوئی پر اسرار تعلق نہیں۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو آدمی فجر کے وقت مسجد میں حاضر ہو کر مقرر انداز میں نماز ادا کرلے وہ کسی پر اسرار تاثیر کے نتیجہ میں خود بخو داللہ کی ذمہ داری میں آجائے گا اور اُس کا سارا دن محفوظ گزرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک پوری طرح معلوم تعلق ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص صبح کی نماز اس کی حقیقی اسپرٹ کے ساتھ پڑھے گا اُس کے اندر ایسے اخلاقی اوصاف پیدا ہو جائیں گے جو اس کی حفاظت کے ضامن ہوں گے۔ مثلاً وضو کی روح تطہیر قلب ہے۔ جو آدمی اس طرح وضو کے دوران اپنا داخلی تزکیہ کر رہا ہو وہ گویا اُس کے ذریعہ سے ایک نیا انسان بن جائے گا۔ اسی طرح اللہ اکبر کی اسپرٹ تواضع ہے۔ الحمد للہ کی اسپرٹ قناعت ہے، رکوع اور سجدہ کی اسپرٹ اپنے اندر اکڑ کو ختم کرنا

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page