گفتگو اور اظہار خیال
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۳۹
ہے۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ کی اسپرٹ یہ ہے کہ نمازی پورب پچھم اور اتر دکّن منھ پھیر کر یہ کہہ رہا ہے کہ ائے لوگو، تمہاری جان، تمہارا مال اور تمہاری آبرو مجھ سے محفوظ ہے۔ اسی طرح باجماعت نماز کی اسپرٹ یہ ہے کہ آدمی اپنے میں سے ایک کو آگے رکھ کر خود بیک سیٹ پر چلا جائے۔
فجر یا صبح کی نماز ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی مذکورہ قسم کے انسانی اوصاف کو اپنے اندر پیدا کر کے مسجد سے باہر کی دنیا میں نکلے اور جو آدمی ان اعلیٰ اوصاف کے ساتھ متصف ہو کر دنیا میں داخل ہو وہ بلاشبہ ایک ایسا انسان ہوگا جو لوگوں کے درمیان اس طرح محفوظ طور پر ہے گویا کہ اللہ نے اُس کی حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے۔
۲۔ شہزاد علی صاحب نے کہا کہ میں نے اپنے تجربہ کی بنا پر جانا کہ امیری کے مقابلہ میں محتاجی زیادہ بڑی نعمت ہے۔ امیری کی حالت ہو تو آدمی غافل ہو جاتا ہے۔ مگر فقیری کی حالت آدمی کے اندر خدا کی یاد جگاتی ہے۔ وہ پہلے سے زیادہ ذکر و دعا میں مشغول ہو جاتا ہے۔ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ خدا کی قربت کا تجربہ کرتا ہے۔
میں نے کہا کہ یہ بات بالکل درست ہے۔ اس کو حدیث میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: أنا عند المنكسرة قلوبهم (میں ٹوٹے دل والوں کے ساتھ رہتا ہوں) یہ بات اسلامی لٹریچر میں کثرت سے بیان کی گئی ہے۔ مگر اس معاملہ کا ایک اور پہلو ہے جس کو میرے علم کے مطابق، علماء اور صوفیا بتا نہ سکے۔ کم از کم ان کی تحریروں سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ چنانچہ الغزالی کی احیاء علوم الدین سے لے کر شاہ ولی اللہ کی حجۃ اللہ البالغہ تک کسی بھی کتاب میں اُس کا ذکر نہیں ملتا۔ موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین بھی، میرے علم کے مطابق، اس کی نشاندہی نہ کر سکے۔
پھر میں نے کہا کہ یہ دوسری چیز ذہنی ارتقاء (intellectual development) ہے۔ امیری کی حالت میں انسان کا ذہن پر سکون رہتا ہے۔ یہ سکون دماغ کے عمل کو معطل کر دیتا ہے۔ وہ جہاں ہے وہیں پڑا رہتا ہے۔ مگر محتاجی اور مصیبت ذہن کے اندر ہلچل پیدا کرتی ہے۔ وہ آدمی کے اندر ایک قسم کا دماغی طوفان (brain storm) ظہور میں لاتی ہے۔ اس طرح سویا ہوا دماغ جاگ
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues