Al-Risala · April 2004 · page 40

گفتگو اور اظہار خیال

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۴۰

اُٹھتا ہے۔ دماغی سل (brain cells) متحرک ہو جاتے ہیں۔ یہ چیز آدمی کی فکری عمل کو بڑھاتی ہے۔ وہ اُس کو زیادہ باشعور انسان بنا دیتی ہے۔

میں نے کہا کہ حدیث میں یہ بات بتائی جا چکی ہے۔ مگر حدیث میں یہ بات تمثیل کی زبان میں ہے۔ اس لیے شارحین اُس کو سمجھ نہ سکے۔ ایک حدیث قدسی میں آیا ہے کہ ’’میں جب بندے کو کسی مصیبت میں مبتلا کرتا ہوں اور وہ اُس پر صبر کر لیتا ہے اور لوگوں سے اُس کی شکایت نہیں کرتا‘‘۔ اس کے بعد حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ثم ابدلته لحماً خيراً من لحمه و دماً خيراً من دمه (رواہ الحاکم عن ابی ہریرہ) یعنی پھر میں اُس کے گوشت کو زیادہ بہتر گوشت سے بدل دیتا ہوں اور اُس کے خون کو زیادہ بہتر خون سے بدل دیتا ہوں۔

اس حدیث میں گوشت اور خون کا ذکر لفظی معنوں میں نہیں ہے بلکہ علامتی معنوں میں ہے۔ اس کا مطلب خون اور گوشت کا مادی معنوں میں بدلنا نہیں ہے بلکہ شخصیت کا معنوی معنوں میں بدلنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صبر بغیر شکایت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر ایک فکری عمل شروع ہو جاتا ہے جو ذہنی ارتقاء (intellectual development) کا باعث ہوتا ہے۔ اِس کے اندر سنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔ اِس کا ذہن زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچنے لگتا ہے۔ اِس کی قوتِ تفکیر زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ ایک سادہ عالم مفکر عالم بن جاتا ہے۔

۳۔ ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ میرے اندر خدا کے فضل سے یہ بات ہے کہ میں اختلاف کے باوجود اعتراف کرتا ہوں۔ زندہ انسانوں کے درمیان ہمیشہ اختلاف ہوتا ہے۔ اس لیے اختلاف کو میں کوئی معیوب چیز نہیں سمجھتا۔ چنانچہ صحابہ، تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہاء اور علماء سب کے درمیان ہمیشہ کثرت سے اختلافات رہے ہیں۔ اس کے باوجود باہمی احترام اور اعتراف میں کوئی فرق نہیں آیا۔

جمعیۃ علماء ہند سے بعض جزئی امور میں مجھ کو اختلاف ہے۔ مگر اسی کے ساتھ میں جمعیۃ علماء ہند کی خدمات کا بھی کھلے طور پر اعتراف کرتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں دوسری جماعتوں کے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page