گفتگو اور اظہار خیال
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۴۱
مقابلہ میں جمعیۃ علماء ہند کی خدمات سب سے زگویادہ ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ وہ واحد جماعت ہے جو ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے گویا ایک پولیٹیکل بیس کی حیثیت رکھتی ہے۔ ۱۹۴۷ء کے بعد جو آزاد ہندوستان بنا اس میں ہندوؤں نے کانگریس میں شریک ہو کر حصہ لیا۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو اُن کی اکثریت مسلم لیگ کی حامی بن کر پاکستان کے حق میں چلی گئی۔ اس عموم میں واحد استثناء جمعیۃ علماء ہند کا تھا۔ جمعیۃ علماء ہند اگر چہ تنظیمی اعتبار سے بعد کو بنی۔ مگر علماء کی نسبت سے اس کے عمل کا آغاز ۱۸۵۷ء سے شروع ہوتا ہے۔ ۱۸۵۷ء سے لے کر ۱۹۴۷ء تک علماء کا یہ گروہ آزادی ہند کی جدوجہد میں سرگرم طور پر شریک رہا اور اُس کے لیے ہر قسم کی قربانیاں دیتا رہا۔
۱۹۴۷ء کے بعد انتہا پسند ہندوؤں نے یہ کہنا شروع کیا کہ مسلمان جو پاکستان چاہتے تھے وہ پاکستان بن چکا۔ اب وہ ہندوستان کو چھوڑ کر پاکستان چلے جائیں۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، یہ آواز زیادہ زور نہ پکڑ سکی۔ وہ صرف کچھ کٹّر ہندوؤں کی آواز بن کر رہ گئی۔ اس خطرناک آواز کا بے اثر ہو جانا کیوں ہوا۔ اس کا ایک بڑا حصہ جمعیۃ علماء ہند کا وجود ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے کھلے طور پر پاکستان کی مخالفت کی اور دو قومی نظریہ کو غلط بتایا۔ اُس کو اپنی اس مخالفت کی قیمت بھی ادا کرنی پڑی۔ علماء ہند کی اس تاریخ کی بنا پر یہاں کے مسلمان اس پوزیشن میں ہو سکے کہ وہ نئے ہندوستان میں کہہ سکیں کہ ہم نے بھی ہندوستان کی آزادی کے لیے اتنی ہی قربانی دی ہے جتنا کہ ہندوؤں نے دیا ہے۔ اس لیے ہندوستان میں رہنے کا ہم کو بھی برابر کا حق ہے۔ اس طرح جمعیۃ علماء ہند نے ہندوستان کے مسلمانوں کو وہ پولیٹیکل مبرّر(سیاسی (سیاسی وجہ جواز) دیا جس کی بنا پر وہ بھی اس ملک میں سر اٹھا کر برابر کے شہری کے طور پر رہ سکیں۔ جمعیۃ علماء ہند کو حذف کرنا یا اس پولیٹیکل مبرّر کو حذف کرنا ہے جس کے بغیر ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے بظاہر کوئی سیاسی وجہ جواز باقی نہیں رہتا۔ ۴۔ ایک موقع پر میں نے کہا کہ ۱۹۴۷ء کے بعد ہندوستان کے مسلمان یہاں کی حکومت سے برابر احتجاج اور ٹکراؤ میں مشغول رہے ہیں۔ کسی نہ کسی ملّی ایشو کو لے کر وہ مسلم ورس حکومت کی فضا
‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues