Al-Risala · April 2004 · page 42

گفتگو اور اظہار خیال

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۴، صفحہ ۴۲

بنائے رہتے ہیں۔ یہ نااہل مسلم رہنماؤں کی ناعاقبت اندیشانہ رہنمائی کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔ اس کے بارہ میں اگر اُن سے کچھ کہا جائے تو اُن کا جواب یہ ہوتا ہے کہ دستور ہند نے ہم کو آزادی دی ہے۔ دستوری اعتبار سے ہمارا حق ہے کہ ہم اپنی شکایتوں کے لیے حکومت کے خلاف تحریک چلائیں۔ یہ سخت نادانی کی بات ہے۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔ یہاں کوئی راجا یا بادشاہ حکومت نہیں کرتا جس کا عوام سے کوئی تعلق نہ ہو۔ یہاں کا حکمراں خود ہندوستانیوں کے ووٹ سے بنتا ہے۔ ایسی حالت میں حکومت سے ٹکراؤ کرنا بالواسطہ طور پر عوام سے ٹکراؤ کرنا بن جاتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ان عوام میں بہت بڑی اکثریت ہندوؤں کی ہوتی ہے۔ اس لیے حکومت سے ٹکراؤ کرنا بالواسطہ انداز میں مجاریٹی سے ٹکراؤ کرنا بن جاتا ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ کسی حکومت سے ٹکراؤ کر کے زندہ رہ سکتے ہیں مگر مجاریٹی سے ٹکراؤ کر کے آپ زندہ نہیں رہ سکتے۔

اس معاملہ میں ایک مفکر کا قول ان مسلم رہنماؤں پر صادق آتا ہے۔ اُس نے کہا کہ۔ عقلمند آدمی وہ ہے جو چیزوں کی اضافی قدر کو جانے :

A wise man is one who knows the relative value of things. یہ ایک فطری حقیقت کا اظہار ہے۔ اس کی روشنی میں دیکھا جائے تو ہندوستان کے نام نہاد رہنما یقینی طور پر غیر عاقل ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ تو جانا کہ دستور کے الفاظ کے اعتبار سے ہم کو حکومت سے ٹکراؤ کرنے کا حق حاصل ہے۔ مگر انہوں نے یہ نہیں جانا کہ اس ٹکراؤ کے نتیجہ میں یہ ہوگا کہ مسلمانوں اور یہاں کی اکثریتی فرقہ کے درمیان تناؤ اور نفرت کا ماحول پیدا ہو جائے گا۔ مسلمان حکومت سے ٹکراؤ کا تحمل تو کر سکتے ہیں مگر وہ اکثریتی فرقہ سے ٹکراؤ کا تحمل نہیں کر سکتے جو اُن کی مذکورہ سیاسی پالیسی کے نتیجہ میں لازماً پیش آئے گا۔

۵۔ ایک گفتگو کے ذیل میں میں نے کہا کہ زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے جو اصول ہیں، اُن میں سے ایک اہم اصول یہ ہے کہ اگر کسی شخص سے کسی معاملہ میں آپ کی نزاع پیدا ہو جائے تو پہلے ہی مرحلہ میں اُس کو ختم کر دیجیے، خواہ اس میں آپ کو کچھ نقصان اُٹھانا پڑے۔ اگر آپ نے پہلے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2004 All issues

Printed page